X
تبلیغات
رایتل
جمعه 6 مرداد‌ماه سال 1385

جنت کی آڑ میں جہنم

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 12:52
بم لگا کر جنت کو چلے

آج کل پاکستان میں دو بہنوں کا خبروں میں کافی ذکر ہے جنہیں خود کش بمبار بہنوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان بہنوں کا ذکر مجھے کچھ puzzling سا لگتا ہے۔ بمبار طیاروں کا تو سنا تھا، یہ بمبار بہنیں کیا ہوئیں؟ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ان بہنوں نے خودکش بم دھماکوں کی تربیت حاصل کی تھی۔ یہ پہلی دفعہ سننے میں آیا ہے کہ خود کشی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ کیا خودکشی کا کوئی simulator تیار کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے؟ رپورٹس کے مطابق ان بہنوں کے ماموں گل حسن ، جو کہ پچاس کے قریب اہل تشیع لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا ملزم ہے، نے انہیں اس بات کا قائل کیا کہ بم لگا لو، جنت تمہارے سامنے ہی ہے۔
مذکورہ بالا بہنوں کے طرز زندگی بھی چشم کشا ہے۔ جس طرح خبروں میں ان بہنوں کے گھر کا ماحول اور ان کے معمولات کے متعلق بیان کیا گیا ہے، اس کے مطابق تو یہ گھرانہ ایک مثالی اسلامی گھرانہ ہوگا اور ہمارے کچھ کرم فرماؤں کے نزدیک یہ بہنیں آئیڈ یل مسلم خواتین ہون گی۔ ان بہنوں کی والدہ کے مطابق ان بہنوں کی زندگی کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ وہ پردے کی سخت پابند تھیں۔ وہ چھت پر تک نہیں جاتی تھیں ، ان کے گھر میں ٹی وی نہیں تھا، وہ اس حد تک پردہ کرتی تھیں کہ انہوں نے ہاتھوں پر دستانے چڑھائے ہوتے تھے اور علی ہذالقیاس۔ سچ پوچھیں تو مجھے ان خواتین کے بم دھماکوں پر آمادہ ہونے پر کوئی خاص حیرانی نہیں ہوئی۔ ایسی غیر فطری، قبرستان کے سناٹے جیسی زندگی گزارنے والی لڑکیاں اپنی زندگی کا خاتمہ ہی کرنا چاہیں گی۔ ملک بھر کے دماغی امراض کے ہسپتال ایسے ہی مذہبی جنونیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جو ان سے باہر ہیں، وہ جسم سے بم باندہ کر جنت کی راہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ لیکن ان کو معلوم نہیں کہ عاقبت جنت نہیں جہنم ہی ملے گی -آپ کا اس بارے‌ میں‌ کیا نظریہ ہے؟؟