X
تبلیغات
رایتل
سه‌شنبه 10 مرداد‌ماه سال 1385

غلو پر تنبیہ

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 20:14

 

۱۲۳۰ ۔ امام علی(ع) ! خبردار ہمارے بارے میں غلونہ کرنا ۔ یہ کہو کہ ہم نبدہ ہیں اور خدا ہمارا رب ہے ۔ اس کے بعد جو چار ہو ہماری فضیلت بیان کرو ۔

( خصال ۶۱۴ ۱۰ روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم عن الصادق(ع) ، غروالحکم ۲۷۴۰ ، تحف العقول ص۱۰۴ نوادرالاخبار ص۱۳۷ )

۱۲۳۱ ۔ امام حسین(ع) ہم سے اسلام کی محبت میں محبت رکھو کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا ہے کہ خبردار میرے حق سے زیادہ میری تعریف نہ کرنا کہ پروردگار نے مجھے رسول بنانے سے پہلے بندہ بنایا ہے ۔ ( العجم الکبیر ۳ ص۱۲۸ ۲۸۸۹ روایت یحییٰ بن سعید )

۱۲۳۲ ۔ امام صادق(ع) ! جس نے ہمیں نبی قرار دیا اس پر خدا کی لعنت ہے اور جس نے اس مسئلہ میں شک کیا اس پر بھی خدا کی لعنت ہے۔ ( رجال کشی ۲ ص۵۹۰ ۵۴۰ روایت حسن وشاء ) 

۱۲۳۳ ۔ امام صادق(ع)! ان غالیوں میں بعض ایسے جھوٹے ہیں کہ شیطان کو بھی ان کے جھوٹ کی ضرورت ہے ۔ ( رجال کشی۲ ص ۵۸۷ ۵۳۶ روایت ہشام بن سالم )

۱۲۳۴ ۔ مفضل بن عمر ! میں اور قاسم شریکی اور نجم بن حطیم اور صالح بن سہل مدینہ ۔میں تھے اور ہم نے ربوبیت کے مسئلہ میں بحث کی تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس بحث کا فائدہ کیا ہے ۔ ہم سب امام سے قریب ہیں اور زمانہ بھی تقیہ کا نہیں ہے چلو ۔ چل کر انھیں سے فیصلہ کرالیں ۔

چنانچہ جیسے ہی وہاں پہنچے حضرت بغیر رداء اور نعلین کے باہر نکل آئے اور عالم یہ تھا کہ غصہ سے سر کے سارے بال کھڑے تھے ۔

فرمایا ۔ ہرگز نہیں ۔

ہرگز نہیں ۔ اے مفضل ۔ اے قاسم ، اے نجم ۔ ہم خدا کے محترم بندے ہیں جو کسی بات میں اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور ہمیشہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔ ( کافی ۸ ص۲۳۱ ۳۰۳ )

۱۲۳۵ ۔ امام صادق(ع) ! غالیوں کی مذمت کرتے ہوئے ۔

خدا کی قسم ۔ ہم صرف اس کے بندہ ہیں جس نے ہمیں خلق کیا ہے اور منتخب کیا ہے ۔ ہمارے اختیار میں نہ کوئی نفع ہے اور نہ نقصان ۔ مالک اگر رحمت کرے تو یہ اس کی رحمت ہے اور اگر عذاب کرے تو یہ بندوں کا عمل ہے۔ خدا کی قسم ہماری خدا پر کوئی حجت نہیں ہے اور نہہمارے پاس کوئی پروانہ برائت ہے۔ ہمیں موت بھی آتی ہے۔ ہم دفن بھی ہوتےہیں۔ ہم قبر سے دوبارہ نکالے بھی جائیں گے۔ ہمیں عرصہ محشر میں کھڑا کرکے ہم سےحساب بھی لیاجائے گا ۔ (رجال کشی ۲ ص ۴۹ / ۴۰۳ روایت عبدالرحمن بن کثیر)

۱۲۳۶۔ صالح بن سہل: میں امام صادق(ع) کے بارے میں ان کے رب ہونے کا قائل تھا تو ایک دن حضرت کے پاس حاضر ہوا تو دیکھتے ہی فرمایا صالح ! خدا کی قسم ہم بندہ مخلوق ہیں اور ہمارا ایک رب ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں اور نہ کریں تو وہ ہم پر عذاب بھی کرسکتا ہے۔ (رجال کشی ۲ ص ۶۳۲ / ۶۳۲ ، مناقب ابن شہر آشوب ۴ ص ۲۱۹)

۱۲۳۷۔ اسماعیل بن عبدالعزیز: امام صادق(ع) نے فرمایا کہ اسماعیل وضو کیلئے پانی رکھو۔ میں نے رکھ دیا تو حضرت وضو کے لئے داخل ہوئے۔ میں سوچنے لگا کہ میں تو ان کے بارے میں یہ خیالات رکھتا ہوں اور یہ وضو کررہے ہیں۔

اتنے میں حضرت نکل آئے اور فرمایا اسماعیل ! طاقت سے اونچی عمارت نہ بناؤ کہ گر پڑے۔ ہمیں مخلوق قرار دو ۔ اس کے بعد جو چاہو کہو ۔ (بصائر الدرجات ۲۳۶/ ۵ ، الخرائج والجرائح ۲ ص ۷۳۵ / ۴۵، الثاقب فی المناقب ۴۵۲ / ۳۳۰ ، کشف الغمہ ۲ ص ۴۰۳)

۱۲۳۸۔ کامل التمار : میں ایک دن امام صادق(ع) کی خدمت میں تھاکہ آپ نے فرمایا: کامل! ہمارا ایک رب قرار دو جس کی طرف ہماری بازگشت ہے۔ اس کے بعد جو چاہو بیان کرو۔

میں نے کہا کہ آپ کا بھی رب قرار دیں جو آپ کا مرجع ہو اور اس کے بعد جو چاہیں کہیں تو بچاکیا؟

یہ سن کر آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ آخر کیا کہنا چاہتے ہو ؟ خدا کی قسم ہمارے علم میں سے ایک الف سے زیادہ تم تک نہیں پہچنا ہے۔

(مختصر بصائر الدرجات ص ۵۲ ، بصائرالدرجات ۵۰۷/۸)

۱۲۳۹۔ امام صادق(ع): خبردار غالی کے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہے وہ تمہاری جیسی بات کرتا ہو اور مجہول الحال کے پیچھے اور کھلم کھلا فاسق کے پیچھے چاہے میانہ روی کیوں نہ ہو ۔(تہذیب ۳ ص ۳۱ / ۱۰۹ روایت خلاف بن حماد۔ الفقیہ ۱ ص ۳۷۹ / ۱۱۱۰)