X
تبلیغات
رایتل
چهارشنبه 11 مرداد‌ماه سال 1385

غلو کی روایات سب جعلی ہیں

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 14:22

 

۱۲۵۹۔ ابراہیم بن ابی محمود: میں نے امام رضا (ع) سے عرض کیا کہ فرزند رسول (ص) ہمارے پاس امیراالمومنین (ع) کے فضائل اور آپ کے فضائل میں بہت سے روایات ہیں جنہیں مخالفین نے بیان کیا ہے اور آپ حضرات نے نہیں بیان کیا ہے کیا ہم ان پر اعتماد کرلیں؟

فرمایا ابن ابی محمود! مجھے میرے پدر بزرگوار نے اپنے والد اور اپنے جد کے حوالہ سے بتایا ہے کہ رسول اکرم (ص)  کا ارشاد ہے کہ جس نے کسی کی بات پر اعتماد کیا گویا اس کا بندہ ہوگیا۔ اب اگر متکلم اللہ کی طرف سے بول رہا ہے تو یہ اللہ کا بندہ ہوگا اور اگر ابلیس کی بات کہہ رہا ہے تو یہ ابلیس کا بندہ ہوگا۔

اس کے بعد فرمایا : ابن ابی محمود! ہمارے مخالفین نے ہمارے فضائل میں بہت روایات وضع کی ہیں اور انہیں تین قسموں پر تقسیم کیا ہے ایک حصہ غلو کا ہے۔ دوسرے میں ہمارے امر کی توہین اور تیسرے میں ہمارے دشمنوں کی برائیوں کی صراحت ہے۔

لوگ جب غلو کی روایت سنتے ہیں تو ہمارے شیعوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہماری ربوبیت کے قائل ہیں اور جب تقصیر کی روایات سنتے ہیں تو ہمارے بارے میں یہی عقیدہ قائم کرلیتے ہیں اور جب ہمارے دشمنوں کی نام بنام برائی سنتے ہیں تو ہمیں نام بنام گالیاں دیتے ہیں جبکہ پروردگار نے خود فرمایا ہے کہ غیر خدا کی عبادت کرنے والوں کے معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ وہ عداوت میں بلا کسی علم کے خدا کو بھی برا کہیں گے۔

ابن ابی محمود! جب لوگ داہنے بائیں جارہے ہیں تو جوہمارے راستہ پر رہے گا ہم اس کے ساتھ رہیں گے اور جو ہم سے الگ ہوجائے گا ہم اس سے الگ ہوجائیں گے۔ کم سے کم وہ بات جس سے انسان ایمان سے خارج ہوجاتا ہے یہ ہے کہ ذرہ کو گٹھلی کہہ دے اور اسی کو دین بنالے اور اس کے مخالف سے برائت کا اعلان کردے۔

ابن ابی محمود! جو کچھ میں نے کہا ہے اسے یاد رکھنا کہ اس میں میں نے دنیا وآخرت کا سارا خیر جمع کردیا ہے۔ (عیون اخبار الرضا (ع) ۱ ص ۳۰۴ / ۶۳ ، بشارۃ المصطفی ص ۲۲۱)