X
تبلیغات
رایتل
سه‌شنبه 21 شهریور‌ماه سال 1385

خطبہ زینب سلام اللہ علیہا

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 09:44

خطبہ زینب سلام اللہ علیہا

            اگر یہیں مجلس ختم ہوجاتی تو یزید کی جیت تھی اور جو کچھ اس کے حکم سے ہواتھا وہ قطعی غلط نہیں تھا لیکن زینب (س) نے مجلس کو یہاں ختم ہی نہیں ہونے دیا ،جس چیزکو یزید مسرت سمجھ رہا تھا اسے اس کے لۓ زہر سے زیادہ تلخ بنادیا اور مجلس نشینوں کو یہ بتادیاکہ جواسیر تمہاے سامنے کھڑے ہیں یہ ان کی اولاد ہیں جن کے نام پر یزید شام کے لوگوں پر حکومت کررہا ہے ، انھیں یہ بتادیا کہ اسلام حکومت سے قبل دین ہے حاکم سے لے کر رعیتکی چھوٹی سی فرد تک خدا کےسامنے اپنے کۓ ہوۓ فعل اور اپنی کہی ہوئی بات کا جواب دہ ہے اور یہ بھی آشکار کردیا کہ اسلام تقوے کے پایوں پر استوار ہے نہ طاقت کے پالوں پر ۔[26]

            زینب (‏س)اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء (س)کی طرح ظالموں کے سامنے قد بلند کرتی ہیں بھے دربار میں خدا کی حمدو ستائش کرتی ہیں اور رسول(ص) و آل رسول (ع) پر درود بھیجتی ہیں اور پھر قرآن کی آیت سے  اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں :

          " ثم کان عاقبۃ الذین اساؤاالسوای ان کذبوا بآیا ت اللہ ۔۔۔۔"

            یزید تویہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین و آسمان کو ہم پر تنگ کردیا ہے تیرے گماشتوں نے ہمیں شہروں شہروں اسیری کی صورت میں پھرایا تیرے زعم میں ہم رسوا اور تو باعزت ہوگیا ہے ؟ تیرا خیال ہے کہ اس کام سے تیری قدر میں اضافہ ہوگیا ہے اسی لۓ ان باتوں پر تکبر کررہا ہے ؟ جب تو اپنی توانائی و طاقت (فوج) کو تیار دیکھتا ہے اور اپنیبادشاہت کے امور کو منظم دیکھتا ہے تو خوشی کے مارے آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، تو نہیں جانتا کہ یہ فرصت جو تجھے دی گئی ہے کہ اس میں تو اپنی فطرت کو آشکار کرسکے کیاتو نے قول خدا کو فراموش کردیا ہے << کافر یہ خیال نہ کریں کہ یہ مہلت جو انھیں دی گئی ہے یہ ان کے لۓ بہترین موقع ہے ، ہم نے ان کو اس لۓ مہلت دی ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں ، پھر ان پر رسوا کرنے والا عذاب نازل ہوگا >> پسر طلقاء کیا یہ عدل ہے تیری بیٹیاں اور کنیزیں باعزت پردہ میں بیٹھیں اور رسول کی بیٹیوں کو تو اسیر کرکے سربرہنہ کرے ، انہیں سانس تک نہ لینے دیا جاۓ ، تیری فوج انھیں اونٹوں پر سوار کرکے شہر بہ شہر پھراۓ ؟ نہ انہیں کوئی پناہ دیتا ہے ، نہ کسی کو ان کی حالت کاخیال ہے ، نہ کوئی سرپرست ان کے ہمراہ ہوتا ہے لوگ ادھر ا‍‌‌دھر سے انہیں دیکھنے کے لۓ جمع ہونے ہیں ، لیکن جس کے دل میں ہمارے طرف سے کینہ بھرا ہوا ہے اس سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ تو کہتا ہے کہ کاش جنگ بدر میں قتل ہونے والے میرے بزرگ موجود ہوتے اور یہ کہکر تو فرزند رسول (ص)  کے دندان مبارک پر چھڑی لگاتا ہے ؟ کبھی تیرے دل میں یہ خیال نہیں آتا ہے کہ تو ایک گناہ اور برے کام کا مرتکب ہوا ہے ؟ تونے آل رسول (ص) اور خاندان عبدالمطلب کا خون بہا کر دو خاندانوں کی دشمنی کو پھر زندہ کردیا ہے ،خون نہ ہو کہ تو بہت جلد خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگا ، اس وقت یہ تمنا کرے گا کہ کاش تو اندھا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا تو یہ کہتا ہے کہ اگر میرے بزرگ اس مجلس میں ہوتے تو خوشی سےاچھل پڑتے ، اے اللہ تو ہی ہمارا انتقام لے اور جن لوگوں نے ہم پرستم کیا ہے ان کےدلوں کو ہمارے کینہ سے خالی کردے ،خداکی قسم دو اپنے آپے سے باہر آ گیا ہے اور اپنے گوشت کو بڑھالیا ہے ، جس روز رسول (ص)خدا ،ان کے اہل بیت (ع) ، اور ان کے فرزند رحمت خدا کے سایہ میں آرام کرتے ہوں گے تو ذلت و رسوائی کےساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوگا یہ دن وہروز ہے جس میں خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا وہ مظلوم  و ستم دیدہ لوگ جو کہ اپنے خون کی چادر اوڑھے ایک گوشے میں محو خواب ہیں ، انہیں جمع کرے گا ، خدا خود فرماتا ہے : " راہ خدا میں مرجانے والوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں ، تیرے باپ معاویہ نے تجھے ناحق مسلمانوں پر مسلط کیا ہے  ، جس روز محمد (ص) داد خواہ ہوں گے اور فیصلہ کرنے والا خدا ہوگا ، اور عدالت الہیہ میں تیرے ہاتھ پاؤں گواہ ہوں گے اس روز معلوم ہوگا کہ تم میں سے کون زیادہ نیک بخت ہے ۔

یزید اے دشمن خدا ! میری نظروں میں تیری بھی قدر و قیمت نہیں ہے کہ میں تجھے سرزنش کروں یا تحقیر کروں ، لیکن کیا کروں میری آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے ہیں دل سے آہیں نکل رہی ہیں ، شہادت حسین (ع) کے بعد لشکر شیطان ہمیں کوفہ سے ناہنجاروں کے دربار میں لایا تاکہ اہلبیت (ع) پیغمبر (ص) کی ہتک حرمت و عزت کرنے پر مسمانوں کے بیت المال سے ، جو کہ زحمت کش و ستم دیدہ لوگوں کی محنتوں کا صلہ ہے ، انعام حاصل کرے جب اس لشکر کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگین ہوۓ اور دہان ہمارے گوشت کے ٹکڑوں سے بھر گۓ ہیں ، جب ان پاکیزہ جسموں کے آس پاس درندہ کتے دوڑ رہے ہیں ایسے موقع پر تجھے سرزنش کرنے سے کیا ہوتا ہے ؟ اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ تونے ہمارے مردوں کو شھید اور ہمیں اسیر کرکے فائدہ حاصل کر لیا ہے تو عنقریب تجھے معلوم ہوجاۓ گا کہ جسے تو فائدہ سمجھتا ہے وہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس روز تمہارے کۓ کے علاوہ تمارے پاس کچھ نہ ہوگا ، تو ابن زیاد سے مدد مانگے گا اور وہ تجھ سے ، تو اور تیرے پیروکار خدا کی میزان عدل کے سامنے کھڑے ہوں گے ، تجھے اس روز معلوم ہوگا کہ بہترین توشہ جو تیرے باپ معاویہ نے تیرے لۓ جمع کیا ہے وہ یہ ہے کہ تو نے رسول (ص) خدا کے بیٹوں کو قتل کردیا ، قسم خدا کی میں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور اس کے علاوہ کسی سے شکایت نہیں کرتی ، جو چاہو تم کرو ، جس نیرنگی سے کام لینا چاہو لو ، اپنی ہردشمنی کا اظہار کرکے دیکھ لو ، قسم خدا کی جو ننگ کا دھبہ تیرے دامن پر لگ گیا ہے وہ ہرگز نہ چھوٹے گا ، ہر تعریف خدا کے لۓ ہے جس نے جوانان بہشت کے سرداروں کو کامیابی عطا کی ، جنت کو ان کے لۓ واجب قرار دیا ، خداوند عالم سے دعا ہے کہ ان کی عظمت و عزت میں اضافہ فرماۓ ان پر اپنی رحمت کے سائیہ کو مزید گستردہ کردے کہ تو قدرت رکھنے والا ہے ۔[27]

            شام والے رفتہ رفتہ عراق میں گزرجانے والے حادثہ کی حقیقت سے آگاہ ہوگۓ اور انہیں یہ معلوم ہوگیا کہ کربلا والے یزید کے حکم اور کوفہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوۓ ہیں رسول (ص) خدا کے نواسے حسین بن علی (ع) اور یہ خواتین بچے جنہیں قیدی بناکر دمشق لایا گیا ہے یہ پیغمبر اسلام (ص) کے اہلبیت (ع) یہ اس کاخاندان ہے جس کی جانشینی کے نام پر یزید ان پر دوسرے مسلمانوں پر حکومت کررہا ہے ۔[28]

            سوختہ جگر اور تقوی سے سرشار دل سے نکلے ہوے کلمات کا رد عمل ہوگا معلوم ہے ،پتھر کے دل والا بھی جب ایمان و تقوی کے مقابلہ میں آتا ہے تو وہ خود کو ناتوان اور مدمقابل کو طاقتور سمجھتا ہے ، اور چند لحظوں کے بعد ہی بوکھلاجاتاہ ے،قصریزید میں موت کا سناٹا چھاگیا ، یزید نے حاضرین کی پیشانیوں سے ناراضی اور نفرت کے آثار دیکھے کہنے لگا خدا ابن مرجانہ کو غارت کرے ، میں حسین (ع) کے قتل کو پسند نہیں کرتا تھا ، اس کے بعد اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ اسیروں کو اسی حالت میں رکھنا مصلحت کے خلاف ہے ، حکم دیا کہ  انہیں دوسری جگہ منتقل کردو ، قریش کی خواتین میں سے جو بھی ان سے ملنا چاہتی ہے مل سکتنی ہے ۔ دوپہر اور شام کے کھانے پر علی بن الحسین (ع) کو دعوت دینے لگا ، کیا واقعی اس کے دل میں پشیمانی کا ذرہ برابر اثر تھا ان خیموں میں زندگی کزارنے والوں کے بارے میں ایسا کوئی احتمال ہے ، جب تک ایسا احتمال پید ہوگا اس وقت تک دوسرا اطمینان اسے بر طرف کردے گا ، اس بات کا اطمینان کہ اگر یزید ایسا نہ کرتا تو ممکن تھاکہ کوفہ اور دمشق میں آشوب و انقلاب پھیل جاتا ، ہر چند اسے طاقت سے جلد ہی کچل  دیتا لیکن آج سے اور اس مجلس ایک طبقہ نے یہ محسوس کرلیاکہ جس کو حقیقت سمجھتے تھے وہ حقیقت نہیں ہے اور مسلمانوں کا حاکم وہ نہیں ہے جو ان پر حکومت کررہا ہے [29]

عظمت زینب سلام اللہ علیہا

             حضرت زینب (س) کی عظمت اور قوت قلب اس وقت اور اچھی طرح آشکار ہوجاتی ہے کہ جب یزید کی مجلس میں آپ کی روحانی حیثیت اور رخطبہ اپنا اثر قائم کرتا ہے ۔

            یزید کی مجلس کے ماحول میں خوف و ہراس طاری ہے اور یزید اپنے خیال خام میں بڑا طاقت والا اور فاتح ہے ، امور سلطنت کے ذمہ داران اس کے چاروں طرف بیٹھے ہیں ،اس کے دشمن قیدی بنے ہوۓ ہیں اور اس کے مخالفین کے رہبر امام حسین (ع) کا سر اقدس اس کے سامنے ہے ۔

            اسیروں میں کچھ خواتین اور بچے ہیں اور امام زین العابدین (ع) ہیں جو کہ بیمار ہیں ، یزید غرور و جاہ طلبی کے نشہ میں چور ہے ۔ شام اس کی حکومت کا مرکز ہے اور وہاں کے لوگ اس کے باپ معاویہ کے مکتب کے پلے ہوۓ ہیں ، لیکن جس زینب (س) نے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ اور مکہ معظمہ سے کربلا اور کربلاسے کوفہ اور کوفہ سے شام کے سفر کے دوران بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں اور سفر میں ذرہ برابر آرام میسر ہیں آیا ہے کسی ایک شخص یا جماعت کی حمایت کے بغیر قافلہ سالاری کو سنبھالے رہیں اور منزل بہ منزل ان کی حفاظت کرتی رہیں اور اب رسول (ص) خدا کی اولاد کی ناگفتہ بہ حالت ہے امام زین العابدین کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور گلے میں مار ڈالنے والا طوق ہے یزید سر حسین (ع) کی ہتک کرہا ہے اور زینب (س) سب کچھ دیکھ رہی ہیں ۔

            اس ماحول میں لب کشائی کے لۓ شیر کا کلیجہ اور جرئت درکار ہے ، زینب (س) کی رگوں میں علی (ع) و فاطمہ (س) کا خون دوڑ رہا ہے ۔ آپ اپنے زمانہ کے بڑے بت کے سامنے اس شجاعت و شہامت سے ایسے سخن ریز ہوتی ہیں اور اہلبیت (‏ع) کی فریاد مظلومیت پوری تاریخ میں پھیلادیتی ہیں اور خوابیدہ ضمیروں کو بیدار کردیتی ہیں ۔

کلام زینب (س) کے چند نکات

            جناب زینب (س) کی تقریر ایسی منطقی اور شعلہ ور تھی کہ جس کس مقابلہ میں کوئی شخص کھڑا نہیں رہ سکتا تھا ، زینب (س) کی تقریر کی قاطعیت و جامعیت نے یزید جیسی پلید شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کردیا اور رسول (ص) اور آل رسول (ع) کی عظمت و کرامت کو یاد دلایا اور الہی اقدار کو اقدار کی ضد سے جدا کردیا ۔

            اگر چہ آپ (س) کا پورا خطبہ ہی نکاس معمور ہے لیکن ہم یہاں اس خطبہ کے چند نکات ہی ک ےبیان پر اکتفا کرتے ہیں ۔

            جناب زینب (س) کے خطبہ کے برجستہ ابعاد میں سے ایک پہلو یزید کے خاندان کے سیاہ کارنامے اور اس کی ناپاکی کے ریشے ہیں ، زینب (س) خاندان یزید کی پلیدیوں کو شمار کراتی ہیں اور کسی شخص میں ان کی تردید کی طاقت نہیں ہے ۔ اے یزید تو ہندہ کا بیٹا ہے اور ہندہ وہ عورت ہے کہ جس نے جنگ احد میں لشکر رسول (ص) کے سردار سید الشہداء حضرت حمزہ کا جگر اپنے دانتوں سے چباکر پھینک دیا تھا ،ایسے خاندان سے سانحہ کربلا کے علاوہ اورکوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔

            زینب (س) یزید کو ابن طلقاء کہکر مخاطب کوتی ہیں ، طلقاء ان لوگوں کو کہتے ہیں جو کہ رسول خدا سے دشمنی رکھتے تھے جنگ کرتے تھے لیکن فتح مکہ کے وقت رسول (ص) نے انہیں آزاد کودیا تھا اور فرمایا تھا : "اذ ھبوا انتم الطلقا "_30 جاؤ تم سب آزاد ہو یزید انہیں اشخاص کا بیٹا ہے جنھیں رسول نے آزاد کردیا تھا اور آج اس نے خاندان پیغمبر (ص) کو اسیر بنا رکھا ہے ، اس جملہ کے ذریعہ زینب (س) نے یزید کو یہ سمجھادیا کہ درحقیقت قیدی تو ہے ہماری اسیری ہماری ذلت پر دال نہیں ہے اور نہ تیری طاقت تیری عظمت و کامیابی پر دال ہے

            جناب زینب (س) کی اس تقریر سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زینب کو تاریخ اسلام پر کتنا عبور تھا ۔

حزب اللہ اور گروہ شیطان

            جناب زینب(س) اپنے سرفراز خاندان کے نام کو حزب اللہ اور یزید کے ناپاک خاندان کو گروہ شیطان کے نام سے یاد کرتی ہیں اور فرماتی ہیں : بڑے تعجب کی بات ہے کہ حزب اللہ ، گروہ شیطان اور آزاد شدہ لوگوں کے ہاتھوں مارا جاۓ ، ہمارا خون تمہارے ہاتھوں سے ٹپک رہا ہے اور تمہارے منھ سے ہمارا گوشت نکلا پڑرہا ہے ۔

پردہ کی اہمیت

            جناب زینب (س) کے کلام سے تمام با ایمان اور اہلبیت (ع) کا اتباع کرنے والوں کو جو پیغام دیا جاسکتا ہے وعفت و حجاب کا پیغام ہے زینب خاندان پیغمبر (ص) کی خواتین  بیٹیوں کو قیدی بناکر شہروں شہروں ، کوچہ و بازار میں سربرہنہ مجمع عام میں پھرانے پر تند و سخت لہجہ میں اعتراض کرتی ہیں اور اس حرکت کو عدل کے خلاف قرار دیتی ہیں ، یہ حساسیت مسلمان عورت کے حجاب و عفت کی اہمیت کی غماز ہے ، اس سے ہمیشہ دفاع کرنا چاہۓ ۔

‍‌©©©

پیشن گوئی

             زینب (س) نے اپنے خطبہ کے آخر میں اعتماد کے ساتھ فرمایا : اے یزید تو اپنے تمام مکر و حیلوں کو استعمال کرلے اور اپنی پوری طاقت سے کوشش کرلے لیکن قسم خدا کی تو ہماری یاد کو نہیں مٹا سکتا ہے اور وحی الہی کو نابود نہیں کرسکتا ہے _ _ _ ہر تعریف خدا ہی کے لۓ ہے کہ جس نے ہمارا آغاز سعادت و مغفرت سے اور اختتام شہادت و رحمت پر کیا اور ایسا ہی ہوا کہ جناب زینب (س) نے فرمایا تھا ۔

زینب (س) اور ایک دوسرا پیغام

            دربار یزید میں اسیروں کے درمیان امام حسین (ع) کی چھوٹی سی بچی کا معصوم چرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا ، اگر چہ اس سفر میں اس پر بہت سی مصیبتیں پڑی تھیں اور اس نے بہت سارے رنج برداشت کۓ تھے ، لیکن غم کے پوتو میں چہرہ کی معصومیت و زیبائی نمایاں تھی ، یزید کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک نے یزید سے کہا یہ لڑکی مجھے بخش دیجۓ ، بخی اپنی پھوپی زینب (س) سے لپٹ گئ اور کہا : پھوپھی جان یتیم ہوگئی ہوں کیا اب کنیز بنوں گی ؟! زینب نے اس شامی کو مخاطب کوکے کہا : تو جھوٹ بولتا ہے ، بہت کمینی حرکت کی ہے تو نے ، اس کا نہ تجھے حق ہے نہ یزید کو ، یزید زینب کا یہ کلام سن کر غضبناک ہوا اور کنہے لگا : مجھے یہ حق ہے ، اگر میں چاہوں تو ایسا کرسکتا ہوں ، زینب (س) نے جواب دیا ہرگز تو ایسا نہیں کرسکتا ہے کیونکہ خداوند عالم نے تجھے یہ حق نہیں دیا ہے مگر یہ تو ہمارے آئین سے باہر اور دوسرے دین میں داخل ہوجاۓ گا ، یزید نے کہا: تمہارے باپ اور بھائی دین سے خارج ہوگۓ ، زینب (س) نے فرمایا : اگر تو مسلمان ہونے کا دعویدار ہے تو میرے جد ، بابا اور میرے بھائی کے دین سے ھدایت پائی ہے ۔

            زینب (س) کی منطقی باتوں کا یزید کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس نے ناتوانوں کا حربہ دشنام اختیار کیا اور کہا : اے دشمن خدا تو جھوٹ کہتی ہے! زینب (س) نے فرمایا: تو اس وقت امیر ہے اور دشنام دے رہا ہے اور اپنی طاقت پر ناز کررہا ہے آخر کار یزید شرمندہ ہوا اور خاموش ہوگیا_31

            زینب (س) نے اس یزید کا مقابلہ کیا جو کہ یہ سمجھتا تھا کہ جو چاہے گا کر کزرے گا ، اور اسے دوسروں کے سامنے پشیمان و رسوا کردیا ۔