X
تبلیغات
رایتل
سه‌شنبه 4 مهر‌ماه سال 1385

مقالہ محمد حسن جوہری

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 21:33

 

نصیحت

   دنیا میں سب سے آسان کام نصیحت کرنا هے اور سب سے مشکل کام نصیحت پر عمل کرنا هے ۔ میں نے اپنے لئے آسان کام چن لیا هے اور آپ---------- آپ کی مرضی ، مشکل میں پڑیں یا مشکل سے باهر رهیں۔

        نصیحت کا عمل زندگی کی طرح بهت پرا نا هے ۔غالبا پهلے انسان کے پیدا هونے سے پهلے بھی نصیحت کا عمل موجودتھا ۔نصیحت ایک حکم کی طرح نافذ هوتی تھی     ایسے کرو ، ایسے نه کرو ۔وهاں جاو  وهاں نه جاو-اس کا سجده کرو اور اس کے علاوه کا سجده نه کرو    ماں باپ کی اطاعت کرو شیطان کی اطاعت نه کرو ۔غرض یه که نصیحت سنو اور مانتے چلے جا و ۔ زمین کے سفر میںآسمان کی نصیحتیں سنو اور انهیںماننے کا حوصله پیدا کرو ۔

        ماضی کے اوراق میں هم دیکھتے هیں که کبھی کبھی ایک آدمی ، هم میں سے هی ، همارے سامنے ایک بلندی پر کھڑا هوگیا اور ایک رعب دار آواز میںنصیحت کرنے لگ گیا ،کهشرک نه کرو ،زمین پر اکڑ کر نه چلو ، اور وغیره وغیر ه ۔

        ان لوگوں کو کس نے اجازت دی که لوگوں کو خطاب کریں که اے انسانو  غورسے سنو ،ایک وقت آنے والا هے جب تم سے تمهارے اعمال کے بارے میںپوچھا جائے گا ، جب چھپے هوئے راز ظاهر هونگے اور جب انسان کو اس کے اعما لکے مطابق ایک عاقبت ملے گی۔

        بهرحال نصیحتیں چلتی رهتی هیں خطاب جاری رهتے هیں اور سماعتیں بے حس هو جاتی هیں ، نصیحت کرنے وا لے شور مچا تے رهتے هیں که اے محتر م اندھو   آگے قدم نه بڑھانا ، آگے اندھا کنواں هے ، لیکن عقل کے اندھے سنی ان سنی کر کے دھڑا م سے گرتے رهتے هیں ، اور پھر گله هوتا هے که کاش مجھے کوئی لا ٹھی مار کے سمجھا تا که واقعی آگے کنواں هے ، یه لوگ سنتے هیں لیکن ان کے دل پر اثر نهیں هو تا ، یه لوگ دیکھتے هیں لیکن انهیں نظر کچھ نهیں آتا ، یه لوگ فلسفی هیں لیکن بیچا رے سمجھ نهیں سکتے ، ان کے پاس دل هے لیکن حس نهیں سهے، یه لوگ مغرور هیں لیکن ان کی متاع حیات قلیل هے ، یه طاقت سے حکومت کرنا چاهتے هیں ان کے پاس خدمت کا شعور نهیں ، بس اس طرح یه کھیل جاری رهتا هے ۔ آوازیں آرهی هیں که غا فلوسنو غور سے ، گجر کی آواز سنائی دیتی هے ، کا ن دھرو، وقت کا ناقوس بج رها هے ، رحیل کا رواں کے معنی تلاش کرو ۔ بانگ درا کی تفسیر ڈھونڈو، بال جبریل کا مفهوم سمجھو ، لیکن نهیں سننے والوں کے کانوں میں گویا پگھلا هو اسیسه انڈیلا جا چکا هے ، خواهشات کا اودھم مچاهوا هے ۔ نصیحت کی آواز کیسے سنائی دے  ۔ 

        لوگ اب مطمئن هیں که اب کوئی سقراط موجود نهیں ،اچھا هو اکه سعدی رخصت هوگئے ، بھلا هوا اقبال کا که اب وه بھی نهیں ،کچھ لوگوں کے لئے یه امر باعث اطمینان هے که اب نئی نسل پرانے مذهب سے آزادی هورهی هے ۔خوش لوگ اس بات پر که الله نے نبی بھیجنے کا سلسله هی بند فرمادیا ۔

        وه سمجھتے هیں که شاید ان کو نجات مل گئی ، عقیدوتوں اور عقیدوں سے آزادهوگئے نصیحتوں سے ڈرانے والوںسے ، آگاه کرنے والوں سے ، ان کے صرف حال هے نه کوئی فردا نه ماضی ، بس صرف یهی دور هے ، یهی زمانه هے ۔ آینده کوئی حساب  وکتاب نهیں هوگا، الله اپنے گھر میں خوش ، هم اپنے گھرمیں لیکن ، لیکن ایسے نهیں هوسکتا ، پیدا کرنے والے نے زندگی اور موت پیدا کی یه دیکھنے کے لئے که کو ن نصیحت کرتا هے اور کون نصیحت پر عمل کرتا هے ، کون سعادت مند هے جودوسروں تجربات سے فائده حاصل کرتا هے کون هے خوش نصیب جو نصیحت کے چراغ کی روشنی میں زندگی کی تاریکیوں سے آزاد هوجاتا هے اور کون هے وه جو اس زندگی اور اس زندگی کے انعامات سے سرفراز هو تا هے ۔

        نصیحت کا لفظ طلسماتی لفظ هے ، جو زندگی کے سفر میں کسی وقت بھی اپنا جادو جگا سکتا هے ، شرط صرف یه که نصیحت کرنے والا نصیحت کے عمل سے خود کو ئی فائده حاصل نه کرے ، ورنه سب کچھ بیکا ر هوجائے گا ۔ مخلص کی تعریف هی یه هے که آپ  کے ساتھ ، آپ سے زیاده مهربان هو وه جو اپنے آپ کو بھو ل کر آپ کو یاد رکھے وه جو تم سے تمهاری بهبو د کے علاوه کسی اور معاوضے کا متمنی نه هونصیحت کرنے والا مخلص نه هو تو نصیحت بھی ایک پیشه هے اور پیشه ور کی نصیحت ، نصیحت نهیں کهلائی جاسکتی ۔ بهر حال کهنے کا مدعا یه تھا که نصیحت کا عمل قدیم هے ، آسان هے ، هم نے اسے اپنے لئے چن لیا اور اب یه بھی ضروری نهیں که هم هر وقت هر آدمی کو هر طرح کی نصیحت هی کرتے رهیں، بلکه نصیحت کا پهلا اصول یه هے که نصیحت کرنے والا نصیحت سننے والے سے کچھ نه کچھ تعلق ضرور پیدا کرے  بے تعلق نصیحت یا بے تعلق تبلیغ ایسے هے جیسے زبان غیر میں تقریر کرنا ۔

        سب سے موزوں نصیحت تو یهی هے که نصیحت سننے والے میں نصیحت سننے کا شوق هو  ورنه  ورنه  وهی کها نی که ایک دفعه ایک بندر تھا ،بندر اور بیا پاس پاس رهتے تھے پڑوسی تھے بیا سارا سا ل خوبصورت گھونسله بناتا اور سردی میں اس میں آرام کرتا اور بندر تو بس بندر هی تھا ، ایک دفعه هو ایه که بندر سردی می ٹھٹھر رهاتھا اور بیا اپنے آشیا نے میں لطف اندوز هورها تھا ، بیا کو کیا سوجھی که وه بندر کو دیکھ کر نصیحت کرنے لگا ،،بولا، بھا ئی بندر  میں نے تمهیں هزار بار کها تھا که موسم سرما آنے والا هے ۔ اپنے لئے آشیا نه بنا لو ، مگر تم نے ایک نه مانی ،،بندر یه سن کر ناراض هوگیا اس نے کها ٫٫اتنے سے پرندے اور اتنے بڑے بندر کے سامنے زبان کھولتے هو ئے شرم نهیں آتی ؟ تجھے نصیحت کا حق کس نے دیا ؟ لا میں تجھے گھونسله بناکے دکھاو ں،،بندر نے بندروں والا کام کردیا اور بیا کا گھونسله ٹوٹ گیا توڑ دیا گیا    بندر نے اپنا آشیانه نه بنایا اور ناصح کا آشیانه توڑ دیا۔  

        بس یهی انجام کرتے هیں نصیحت پر ناراض هونے والے ناصح کا که کبھی صلیب پر چڑھا دیتے هیں ، کبھی اسے وادی طائف سے گزارتے دیتے هیں کبھی اس پر کربلا ئیں نافذ کردیتے هیں ، اور کبھی دار پرلیکن سلام ودرود هو نصیحت کرنے والوں پر جن کے حوصلے بلند اور عزائم پخته هوتے هیں جو گالیا ں سن کر دعائیں دیتے هیں اور جو غا فلوں سے غفلت کی چادر یں اتار دیتے هیں اور انهیں بے حسی کی نیند سے جگاتے رهتے هیں ۔هم بھی ان لوگوں کے ساتھ عقیدت کے طور پر نصیحت کرنے کا عمل اختیار کرنے کا اراده رکھتے هیں۔

        اس سے پهلے که کوئی نصیحت کی جائے ۔۔یه کهدینا بھی ضرور ی هے که دنیا میں کوئی ایسی نصیحت نهیں جو پهلے کی نه گئی هو کتابیں لائبریریاں نصیحتوں سے بھری هوئی هیں تو کیا کتابیں پڑھ لینا هی کافی هے  نهیں اس کے علاوه بھی کچھ هے بهت کچھ هے   یه وقت کا عبرت کده هے یهاں آنکھ کھو ل چلنا چاهیئے ۔ اپنی من مانی نهیں کرنی چاهیئے ۔ پهلے من مانی کرنے والے کهاں گئے ؟ عشرت کدے عبرت کدے کیوں بن گئے محلات ، کھنڈرات هوگئے ، دنیا میں جھوٹ بولنے والے کیاکیا نشانیاں چھوڑ گئے ،،ویرانیاں هی نشانیاں هیں۔سب سے بڑی نصیحت تو یهی هے که نصیحت سننے کے لئے تیار رهنا چاهئے ، کا ن کھول کر رکھے جائیں ،آنکھیں انتظار سے عاری نه هوں ، دل احساس سے خالی نه هو، عقل کو عقل سلیم بننے میں کسی رکاوٹ سے دوچار نهیں هونے دینا چاهئے ، جب انسان نصیحت سننے پر آماده هوجائے تو اسے بهتی هوئی ندیوں میں کتابیں هی کتابیں نظر آئیں گی ، هرطرف نصیحت هی نصیحت      

ندی راز هے گهراراز پهاڑ کا کا پیغام ، سمندرکے نام رواں دواں ،اپنی منزل مراد کی طرف     نصیحت هے ان لوگوں کے لئے جو اولی الالباب هیں ، ندی هی پر موقوف نهیں،   پها ڑ بھی ایک انسان کے لئے ایک نصیحت آموز داستان رکھتے هیں ، ایک عزم،ایک قوت،ایک داستان دلبری ،  پهاڑوں میںنصیحتیں هیں ،بادلوں میں نصیحتیں هیں    

زمین کے اندر نصیحت ، زمین سے باهر نصیحت ، درختوں  میں زبانیں هیں ، گویائی هے ، نصیحت هے ، جلوه هے جلوگر بھی هے ۔

        زمین کے اندر نصیحت کی ایک داستان دلپذیر میر تقی میر نے ایک رباعی میں پیش فرمائی هے که پرانے قبرستان میں ایک کا سئه سر پر پاو ں جا پڑا،   بس ٹوٹ گیا،اور ساتھ هی یه آواز آئی :

        لیکن اس سے بھی زیاده اثر انگیز بیان بابافرید کے ایک اشلوک میں هے ۔ جس کے پیچھے ایک کهانی هے جو کچھ یوں سی هے :

        ایک دفعه بابافرید اپنے سیلانی دور میں ایک بستی میں سے گزر ے ۔ دیکھا که ایک خوبصورت عورت ایک غریب عورت کو ماررهی هے ، بابافرید نے وجه دریافت فرمائی ،اطلاع ملی که یه امیر عورت ایک عشرت گاه کی مالکه هے اور غریب اس کی ملازمه    بلکه مشاط    اس دن نوکرانی نے مالکن کو کا جل ڈالااو ر اس کے ساتھ کوئی ریت کا ذره بھی تھا جو اس کی خوبصورت آنکھوں میں بڑا تکلیف ده لگا ، اس لئے اس نے خادمه کو مارا  بابافرید اپنے سفر پر گامزن هوگئے  ایک مدت بعد کے واپسی کا سفر شروع هوا او راسی بستی کے قبرستان میں قیام کے دوران بابافرید نے ایک عجیب منظر دیکھا ، ایک چڑیا نے ایک انسانی کھوپڑی میںاپنے بچے دیئے هوئے تھے۔ وه چڑیا آتی اور چونچ میں خوراک لاکر بچوں کو کھلاتی ، بچے کھوپڑی کی آنکھوں سے باهر منه نکالتے اور خوراک لیکر اندر چلے جاتے ، انسانی کھوپڑی کا یه مصرف باباجی کو عجیب سالگا۔انهوں نے یه دیکھنے کے لئے مراقبه کیا که یه کھوپڑی کس آدمی کی هے ،انهیں معلوم هوا که یه تو اسی خوبصورت عورت کی هے جو آنکھوں میں ریت کا ذره برداشت نه کرتی تھی آج اس کی آنکھوں میں چڑیا کے بچے بیٹھے هوئے هیں     

        جوآنکھیں جگ موهنے والی تھیں آج میں نے وه آنکھیں دیکھ لیں، کاجل کا ذره برداشت نه هوا آج پنچھی کے بچے اسی آنکھ میںبیٹھے هیں          

        بهرحال نصیحت هرطرف لکھی گئی هے ، هر سانس نصیحت ، هر جلوه نصیحت ، تنهائی نصیحت ، محفل نصیحت ، ذره ذره اور قطره قطره نصیحت ، قبول کر نے والا هو تو عطا کرنے والا دور نهیں ،ذوق سجده مل جائے تو آستانه مسجود پاس هی هے ، آنکھ منتظر هو تو جلوه بے تاب هو کر سامنے آئے گا ۔خبر دینے والا ایک بڑی خبر لیکر پھر رها هے ، آپ کے لئے، آپ کے فائدے کے لئے ،آپ کی بچت کے لئے ، مخبرکا انتظار کرو آپ میں سے هی آپ کے آس پاس ،جیساانسان ،کوئی انسان، نه جانے کب کهاں بولنا شروع کردے    سماعت متوجه رکھو ، آپ کو اپنے اندر هی سے آواز آسکتی هے دوسروں کی خامیوں پر خوش هونے والو ، کوئی اپنی هی خوبی بیان کرو ، اسلام سے محبت کرنے کا دعوا کرنے والو ، مسلمانوں سے نفرت نه کرو ، آپ کی آنکھ کھٹکنے والے خار کسی اور نگاه کے منظو ر نظر بھی هوسکتے هیں ،نصیحتوں پر ناراض نه هونا چاهئے، بندر اور انسان کا فرق قائم رکھنا چاهئے ﴿کتاب حرف حرف حقیقت سے اقتباس﴾