X
تبلیغات
رایتل
چهارشنبه 19 مهر‌ماه سال 1385

حضرت امام حسن علیہ السلام کی سوانح حیات پر مختصرنظر

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 09:01

بسم الله الرحمٰن الرحیم :

حضرت امام حسن علیہ السلام کی سوانح حیات پر مختصرنظر:

 والدین: حضرت امام حسن علیہ السلام کے والد ماجد حضرت امام علی علیہ السلام اور آپ کی والدہٴ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا ہیں۔ آپ اپنے والدین کی پہلی اولاد ہیں ۔

تاریخ وجائے پیدائش: حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت   ۳   ھ رمضان المبارک کی پندرہویں تاریخ کو مدینہ منورہ میںہوئی۔ مشہور تاریخ داں جلال الدین نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ آپ کی صورت پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے بہت ملتی تھی

پرورش: حضرت امام حسن علیہ السلام کی پرورش آپ کے والدین اور نانا رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زیر نظر ہوئی۔ اور ان تینوں عظیم شخصیتوں نے مل کر امام حسن علیہ السلام کے اندر انسانیت کے تمام اوصاف کو پیداکیا

حضرت امام حسن علیہ السلام کا دورہٴ امامت:

شیعہ مذہب کے عقیدہ کے مطابق امام پیدائش سے ہی امام ہوتاہے لیکن وہ اپنے سے پہلے والے امام کی وفات کے بعد ہی عہدہٴ امامت پر فائز ہوتا ہے لہٰذا حضرت امام حسن علیہ السلام بھی اپنے والد بزرگوار حضرت امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد عہدہٴ امامت پر فائز ہوئے

 جب آپ نے اس مقدس منصب پر فائز ہوئے تو چاروںطرف ناامنی پھیلی ہوئی تھی اور اس کی وجہ آپ کے والد کی اچانک شہادت تھی۔ لہٰذا معاویہ نے جو کہ شام نامی صوبہ کا گورنر تھا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بغاوت کربیٹھا ۔ امام حسن علیہ السلام کے ساتھیوں نے آپ کے ساتھ غداری کی ، انھوں نے مال ودولت ،عیش و آرام وعہدہ کے لالچ میں معاویہ سے سانٹھ گانٹھ کر لی ۔ ایسی صورت میں امام حسن علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے ایک تو یہ کہ دشمن کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے اپنی فوج کے ساتھ شہید ہو جائیں یا دوسرے یہ کہ اپنے وفادار دوستوں اور فوج کو قتل ہونے سے بچا لیں اوردشمن سے صلح کرلیں۔ اس صورت میں امام نے اپنے حالات کا صحیح جائزہ لیا اور سرداروں کی بے وفائی اور فوجی طاقت کی کمی کی وجہ سے معاویہ سے صلح کرنا ہی بہتر سمجھا۔

صلح کے شرائط:

(۱) معاویہ کو اس شرط پر حکومت منتقل کی جاتی ہے کہ وہ الله کی کتاب ،پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے نیک جانشینوں کی سیرت کے مطابق کام کرے گا۔

(۲) معاویہ کے بعد حکومت امام حسن علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگی اور امام حسن علیہ السلام کے اس دنیا میں موجود نہ ہونے کی حالت میںحکومت امام حسین علیہ السلام کو سونپی جائے گی ۔

(۳) نماز جمعہ کے خطبے میں امام علی علیہ السلام پر ہونے والا سب وشتم ختم کیا جائے اور آپ کو ہمیشہ اچھائی کے ساتھ یاد کیا جائے۔

(۴ ) کوفہ کے بیت المال میں جو مال موجود ہے اس پر معاوہ کاکوئی حق نہ ہوگا ،معاویہ ہر سال بیس لاکھ درہم امام حسن علیہ السلام کو بھیجے کا اور حکومت کی طرف سے ملنے والے مال میں بنی ہاشم کو بنی امیہ پر ترجیح دے گا، جنگ جمل وصفین میں حضرت علی علیہ السلام کی فوج میں حصہ لینے والے سپاہیوں کے بچوں کے درمیان دس لاکھ درہم تقسیم کئے جائیں اور یہ رقم ایران کے دارب گرد نامی صوبہ کی درآمد سے حاصل کئے جائیں۔

(5) الله کی زمین پررہنے والے تمام انسانوں کو امان ملنی چاہئے، چاہے وہ شام کے رہنے والے ہوں یا یمن کے، حجاز میں رہتے ہوںیا عراق میں، کالے ہوں یا گورے۔معاویہ کو چاہئے کہ وہ کسی بھی شخص کو اس کے ماضی کے برتاؤ کی وجہ سے کوئی سزا نہ دے، اہل عراق کے ساتھ دشمنوں والا رویہ اختیار نہ کرے، حضرت علی علیہ السلام کے تمام ساتھیوں کی مکمل طور پر حفاظت کی جائے، امام حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام وپیغمبر اسلام کے خانوادے سے متعلق کسی بھی شخص کی کھلے عام یا پوشیدہ طور پر برائی نہ کی جائے۔

 حضرت امام حسن علیہ السلام کے اس صلح نامہ سے معاویہ کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹ دیا اور لوگوں کو اس کے اصلی چہرے سے آشنا کرایا