X
تبلیغات
رایتل
چهارشنبه 19 مهر‌ماه سال 1385

رویت ہلال کے بارے میں بعض سوالات کے جوابات ( استفتاآت مقام معظم

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 09:15

س 853۔ آ پ جانتے ہیں  کہ ابتداء ماہ اور آ خر ماہ میں چاند حسب ذیل حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے:

۱۔ غروب آ فتاب سے پہلے ( چاند) ہلال ڈوب جاتا ہے۔

۲۔ کبھی چاند اور سورج دونوں ایک ساتھ غروب ہوجاتے ہیں ۔

۳۔ کبھی چاند آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے۔

مہربانی کرکے ان چند امور کی وضاحت فرمائیں:

1 ۔ مذکورہ تین حالتوں میں سے وہ کون سی حالت ہے جس کو فقہی نقطہ نظر سے مہینے کی پہلی تاریخ مانا جائے گا۔

2۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ آ ج کے الیکٹرانک دور میں مذکورہ تمام شکلوں کو دنیا کے آ خری نقطے میں دقیق الیکٹرانک نظام کے حساب سے دیکھ لیا جاتا ہے ، تو کیا اس نظام کے تحت ممکن ہے کہ پہلی تاریخ کے پہلے سے طے کرلیا جائے یا آ نکھ سے ہلال کا دیکہنا ضروری ہے؟

ج۔ اول ماہ کا معیار اس چاند پر ہے جو غروب آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے اور جس کو غروب سے پہلے عام طریقہ سے دیکہا جاسکتا ہو۔

س854۔ اگر شوال کا چاند ملک کے کسی شہرمیں دکھائی نہیں  دیا لیکن ریڈیو اور ٹی وی نے اول ماہ کا اعلان کردیا تو کیا یہ اعلان کافی ہے یا تحقیق ضروری ہے؟

ج۔ اگر رویت ہلال کا یقین ہوجائے یا اعلان رویت ولی فقیہہ کی طرف سے ہو تو پھرتحقیق کی ضرورت نہیں  ہے۔

س855۔ اگر رمضان کی پہلی تاریخ یا شوال کی پہلی تاریخ کا تعین بادل یا دیگر اسباب کی وجہ سے ممکن نہ ہو اور رمضان و شعبان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں تو کیا ایسی صورت میں جبکہ ہم لوگ جاپان میں ہوں، ایران کے افق پر عمل کرسکتے ہیں یا جنتری پر اعتماد کرسکتے ہیں ؟

ج۔ اگر اول ماہ نہ چاند دیکھ کر ثابت ہو، چاہے ان قریبی شہروں کے افق میں سہی جن کا افق ایک ہو، نہ دو شاہد عادل کی گواہی سے اور نہ حکم حاکم سے ثابت ہو تو ایسی صورت میں احتیاط واجب ہے کہ اول ماہ کا یقین حاصل کیا جائے۔ اور چونکہ ایران، جاپان کے مغرب میں واقع ہے اس لئے جاپان میں رہنے والوں کے لئے ایران میں چاند کا ثابت ہوجانا کوئی اعتبار نہیں  رکہتا۔

س856۔ رویت ہلال کے لئے اتحاد افق کا معتبر ہونا شرط ہے یا نہیں ؟

ج۔ کسی شہر میں چاند کا دیکہا جانا اس کے ہم افق یا نزدیک کے افق والے شہروں کے لئے کافی ہے اسی طرح مشرق میں واقع شہروں کی رویت مغرب میں واقع شہروں کے لئے کافی ہے۔

س857۔ اتحاد افق سے کیا مراد ہے؟

ج۔ اس سے وہ شہرمراد ہیں  جو ایک طول البلد پر واقع ہوں اور اگر دو شہر   ایک طول البلد پر واقع ہوں تو ان کو متحد الافق کہا جاتا ہے ۔ یہاں طول البلد علم ہئیت کی اصطلاح کے اعتبار سے ہے۔

س858۔ اگر 29 تاریخ کو خراسان اور تہران میں عید ہو تو کیا بو شہر کے رہنے والوں کےلئے بھی افطار کرلینا جائز ہے جبکہ بو شہر اور تہر  ان کے افق میں فرق ہے؟

ج۔ اگر دونوں شہروں کے درمیان اختلاف افق اتنا ہو کہ اگر ایک شہر میں چاند دیکھا جائے

  تو دوسرے شہرمیں دکھائی نہ دے توایسی صورت میں مغربی شہروں کی رویت مشرقی

 شھروں  کے لئے کافی نہیں  ہے کیونکہ مشرقی شہروں میں سورج مغربی شہروں سے پہلے غروب ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اگر مشرقی شہروں میں چاند دکھائی دے تو رویت ثابت و محقق مانی جائے گی۔

س859۔ اگر ایک شہر کے علماء کے درمیان رویت ہلال کے ثابت ہونے میں اختلاف ہوگیا ہو یعنی بعض کے نزدیک ثابت ہو اور بعض کے نزدیک ثابت نہ ہو اور مکلف کی نظر میں دونوں گروہ کے علماء عادل اور قابل اعتماد ہوں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر اختلاف شہادتوں کی وجہ سے ہے یعنی بعض کے نزدیک چاند کا ہونا ثابت ہو اور بعض کے نزدیک چاند کا نہ ہونا ثابت ہو، ایسی صورت میں چونکہ دونوں شہادتیں ایک دوسرے سے متعارض ہیں لہذا قابل عمل نہیں ہوں گی۔ اس لئے مکلف پر واجب ہے کہ اصول کے مطابق عمل کرے۔ لیکن اگر اختلاف خود رویت ہلال میں ہو یعنی بعض کہیں  کہ چاند دیکہا ہے اور بعض کہیں  کہ چاند نہیں دیکہا ہے۔ تو اگر رویت کے مدعی دو عادل ہوں تو مکلف کے لئے ان کا قول دلیل اور حجت شرعی ہے اور اس پر واجب ہے کہ ان کی پیروی کرے اسی طرح اگر حاکم شرع نے ثبوت ہلال کا حکم دیا ہو تو اس کا حکم بھی تمام مکلفین کے لئے شرعی حجت ہے اور ان پر واجب ہے کہ اس کا اتباع کریں۔

س860۔ اگر ایک شخص نے چاند دیکہا اوراس کو علم ہو کہ اس شہر  کا حکم شرعی بعض  

وجوہ کی بنا پر رویت سے آ گاہ نہیں  ہوپائے گا تو کیا اس شخص پر لازم ہے کہ حاکم کو رویت کی خبر دے؟

ج۔ خبر دینا واجب نہیں  ہے بشرطیکہ نہ بتانے پر کوئی فساد نہ برپا ہو۔

س861۔ زیادہ تر فقہا افاضل کی توضیح المسائل میں ماہ شوال کی پہلی تاریخ کے اثبات کے لئے پانچ طریقے بتائے گئے ہیں  مگر حاکم شرع کے نزدیک ثابت ہونے کا اس میں ذکر نہیں  ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پہر اکثر مومنین مراجع عظام کے نزدیک ماہ شوال کا چاند ثابت ہونے پر کیونکر افطار کرتے ہیں ۔ اور اس شخص کی تکلیف کیا ہے جس کو اس طریقے سے رویت کے ثابت ہونے پر اطمینان نہ ہو؟

ج۔ جب تک حاکم ثبوت ہلال کا حکم نہ دے اتباع واجب نہیں  ہے پس تنہا اس کے نزدیک چاند کا ثابت ہونا دوسروں کے اتباع کے لئے کافی ہے