X
تبلیغات
رایتل
چهارشنبه 10 آبان‌ماه سال 1385

سوال اور جواب

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 10:09

شیعیان پاکستان کے بعض اہم مسائل پر

مفکر اسلام

فقیہ مجاہد آیت اﷲ العظمیٰ سید محمد حسین فضل اﷲ دام ظلہ کااظہار خیال

 (مجموعۂ  طلاب پاکستانی مقیم قم)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

محضر مبارک

مرجع دینی حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید محمد حسین فضل اﷲ دام ظلہ السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ

 بعد از سلام

ہم حوزۂ علمیہ قم میں مقیم پاکستانی دینی طلاب‘ ایک طرف عالم اسلام میں پیش آمدہ جدید حالات و حوادث اور دہشت گردی کے بہانے عالمی استکبار بالخصوص امریکہ کی جانب سے اسلام کے خلاف بے رحمانہ پر وپیگنڈے ‘ عداوت و دشمنی پر مبنی رویے اور دوسری طرف ‘ پاکستان کی اہمیت کے پیش نظر چند سوال پیش کرتے ہوۓ آپ کی جانب سے راہنمائ کے خواہاں ہیں۔

سوال نمبر ١ ہم اما م عصر عجل اﷲ فرجہ الشریف اور آنحضرت (ص) کی عالمی حکومت پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خود کو (زمانہ غیبت میں) علماۓ اسلام کی قیادت میں اسلامی اصولوں اور اقدار کے احیاء اور نشر و اشاعت کے لۓ جد و جہد کا مکلف و مسئول سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جس میں ہمیں اکثریت حاصل نہیں وہاں ہمارا فریضہ کیا ہے؟

جواب ہماری نظر میں اسلامی اصولوں اور اقدار کے احیاء کے لۓ افراط و تفریط سے پاک ایک متوازن جد و جہد کی ضرورت ہے جو اس سلسلے میں اسلام حقیقی یعنی ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر مبنی ہو اور جو اپنی جزئات اور دور حاضر کی انسانی زندگی کے مسائل کے حل کے سلسلے میں قرآن مجید‘ سنت معتبر اور میراث ائمہ طاہرین علیہم السلام سے الہام لے۔ یہ جد و جہد ‘ حیات انسانی کے کلیات کی صحیح سمت معین کرے اورمعاشرے کو اسلامی خطوط پر گامزن کرنے کا وسیلہ بنے ۔نیز معاشرے میں پائ جانے والی ہر قسم کی خرافات ‘ جہل و پس ماندگی کو دور کرے جوعصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مسلمان نسل ِ نو کے وجود میں آنے میں رکاوٹ ہے اور اس طرح شیعیت اپنے بنیادی اصولوں سے دست بردار ہوۓ بغیر آج کی دنیا میںاپنا کردار ادا کر سکے۔ہمارا فریضہ ہے کہ شیعیان پاکستان کے مسائل کو مدنظر رکھ کر پیروانِ اہل بیت (ع) میں اتحاد و ہمدلی کی راہ ہموار کریںاورمشترکہ امور میں ہم آہنگی ‘ اختلافی مسائل میں گفتگو ‘ اختلافات کو ابھارنے والے جزوی اور معمولی مسائل جیسے مرجعیت کے مسئلے پر اختلاف سے اجتناب برتیں اور بالخصوص جبکہ ہم جانتے ہیں کہ مذہبی تعصبات کی وجہ سے پاکستان کے شیعہ مسلمان‘ ظلم و بربریت کا شکار ہو رہے ہیں اور انکی مساجد اورخاص و عام شخصیات پر مسلسل حملے جاری ہی‘ ایسی صورتحال میں موجودہ مشکلات و مسائل کا عقلمندی ‘ حکمت و تدبیراور دور اندیشی سے جائزہ لینا چاہۓ۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں شیعوں کو اکثریت حاصل نہیں اور تعصبات بھی پاۓ جاتے ہیں وہاںشیعوں پر واجب ہے کہ دوسروں کے جذبات بھڑکانے والی حرکات جیسے ان کے مقدسات پر حملوں سے اجتناب کریں کیونکہ یہ اعمال تعصبات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں : انیِّ أکُرَہُ لَکُم اَنُ تَکُونُوا سَبَّابِیُنَ  مجھے پسند نہیں کہ تم سب و شتم کرنے والے بنو ۔(نہج البلاغہ خطبہ ۴۰۶)

ایک اور مقام پر مولا (ع) فرماتے ہیں : أُحُصُدِ الشَّرَّمِنُ صَدرِ غِیرِکَ بِقَلَعِہِ مِنُ صَدرِکَ دوسرے کے سینے سے شر کو نکالنا ہے تو پہلے اپنے سینے کو شر سے خالی کر دو۔ (نہج البلاغہ کلمات قصار ۱۷۸)

سوال نمبر ٢ آپ باخبر ہیں کہ پاکستان میں اسلامی تحریک کے نام پر جماعتیں اور پارٹیاں قائم ہیں لیکن مع الاسف یہ جماعتیں ‘ مذہبی گروہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے شیعہ مسلمان‘ سیکولر پارٹیوں اور گروہوں کا رخ کرتے ہیں اور یہ عمل انکے اسلامی عقائد کی تضعیف و کمزوری کا سبب بنتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو مغرب اور ہمارے ملک پر حاکم طبقہ چاہتا ہے ۔ایسی صورتحال میں شیعہ مسلمانوں اور انکے علما کا فریضہ کیا ہے؟

جواب سیکولر گروہ اور پارٹیوں میں سے بعض ملحدانہ فکر اور طریقۂ کار پر گامزن ہیں اور بعض دین اور سیاست کی جدائ کے قائل ہیں اور اسی مقصد کے لۓ سرگرم عمل ہیں ۔ انکی یہ سرگرمیاں صحیح اسلامی فکر کے خلاف ہیں ۔اسلامی تعلیمات کی رو سے ان پارٹیوں میں شمولیت بنیادی طور پر’’ حرام‘‘  ہے۔ لیکن اگر شدید ضرورت پیش آ جاۓ یعنی انکا ساتھ دینے سے ہمیں جانی یا سیاسی و اقتصادی تحفظ حاصل ہو تا نظر آۓ تو خصوصی احتیاط کے ساتھ‘ بعض اوقات ان کا ساتھ دینا جائز بھی ہو جاتا ہے بشرطیکہ سیاسی و اجتماعی امور کے ماہرین’’اہل خبرہ‘‘ (Specialists) سے راۓ لی جاۓ نیز ساتھ ہی ساتھ جامع الشرائط فقیہ سے اجازت حاصل کی جاۓ۔البتہ شیعوں اور انکے علما کا فریضہ ہے کہ ایک ایسی اسلامی تحریک کے قیام کے لۓ کام کریں جو فکری و سیاسی مسائل میں اہل بیت (ع) کے فکری و سیاسی اسلوب پر مبنی ہو۔ اور جو ملکی سطح پرعلما کی‘ عوام کی اور ثقافتی و سیاسی غرض تمام تر سرگرمیو ں کواپنے اندر سموۓ ہوۓ ہو ۔ اسکے ساتھ ساتھ اس تحریک کے لۓ لازم ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں اور اسلامی تحریکوںکے لۓ اپنے بازو پھیلاۓ رکھے اور عملی اتحاد اور مل جل کر آگے بڑھنے کے لۓ ان کے ساتھ گفتگو کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے۔یہ بھی لازم ہے کہ تعصب سے پرہیز کیا جاۓ کیونکہ تعصب ہمارے وجود کے لۓ مضر ہے اور یہ اکثریتی گروہ  کے ساتھ تعلقات کے قیام میں کسی طرح بھی مفید نہیں ہو سکتا۔ ہمارے خیال میں اصولوں کی پابندی کے ساتھ دوسروں سے اچھے روابط ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے وجود کو منوا سکتے ہیں اور یہی تعصب کا بدل ہے جونقصان دہ بھی ہے اور ہماری مشکلات میں اضافے کا سبب بھی۔