X
تبلیغات
رایتل
سه‌شنبه 15 اسفند‌ماه سال 1385

بارہ اماموں کی زندگی پر اجمالی نظر

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 12:22

بارہ اماموں کی زندگی پر اجمالی نظر(۱)

 

(۱)حضرت امام علی علیہ السلام

(۲)حضرت امام حسن علیہ السلام

(۳)حضرت امام حسین علیہ السلام

(۴)حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

(۵)حضرت امام محمد باقر  علیہ السلام

(۶)حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام

(۷)حضرت امام موسیٰ کاظم  علیہ السلام

(۸)حضرت امام رضا علیہ السلام

(۹)حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

(۱۰)حضرت امام علی النقی علیہ السلام

(۱۱)حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام

(۱۲)حضرت  امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

 

 

 

 

پھلے امام

 

 امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام پھلے امام ھیں۔ آپ حضرت ابوطالب کے بیٹے ھیں جو بنی ھاشم خاندان کے معتبر فرد تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی چچا بھی تھے جنھوں نے پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ سلم کو اپنی زیر سرپرستی لے کر اپنے گھر میں جگہ دی اور ان کی دیکہ بھال اور پرورش کی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے بعد وہ جب تک زندہ رھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حمایت کرتے ھوئے عربی کفار اور خاص کر قریش کے حملوں اور شرارتوں سے آپ کو محفوظ رکھا۔

حضرت علی علیہ السلام(مشھور قول کے مطابق) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے دس سال پھلے پیدا ھوئے اور ابھی چہ سال کے ھی تھے کہ شھر مکہ اور گرد و نواح میں سخت قحط پڑا۔ اس لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواھش کے مطابق آپ اپنے آبائی گھر سے اپنے چچا زاد بھائی رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر تشریف لے گئے اور آپ کی براہ راست سرپرستی میں پرورش پاتے رھے۔

چند سال بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے نبوت عطا ھوئی اور پھلی بار غار حرا میں آپ پر آسمانی وحی نازل ھوئی۔ آپ غار حرا سے شھر اور گھر کی طرف تشریف لے جا رھے تھے ۔حضرت علی علیہ السلام سے تمام واقعہ بیان کیا تو حضرت علی علیہ السلام فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔

اس کے بعد پھر جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو جمع کرکے دین مبین کی دعوت دی تو اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سب سے پھلے میری دعوت دین قبول کرے گا، وھی میرا خلیفہ، وصی اور وزیر ھوگا۔“جو شخص سب سے پھلے اپنی جگہ سے اٹھا اور بآواز بلند ایمان لایا وہ حضرت علی علیہ السلام ھی تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ان کے ایمان کو قبول کر لیا اور ان کے بارے میں اپنے وعدے پورے کئے۔( ارشاد مفید ، ینابیع المودة )

اس لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام پھلے شخص ھیں جنھوں نے اسلام قبول کیا اور پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے اور سب سے پھلے شخص ھیں جنھوں نے ھر گز خدائے وحدہ لاشریک کے علاوہ کسی اور کی پرستش اور عبادت نھیں کی۔

حضرت علی علیہ السلام ھمیشہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رھتے تھے۔ یھاں تک کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ھجرت فرمائی۔ اس رات بھی جبکہ کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکان کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور پختہ ارادہ کئے ھوئے تھے کہ رات کے آخری حصے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں داخل ھو کر آپ کو بستر مبارک پر ھیقتل کر دیں گے تو حضرت علی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر مبارک پر سو گئے اور آپ گھر سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ھوگئے  پھرمولائے کائنات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کے مطابق لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو واپس لوٹا کر اپنی والدہ ماجدہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی (حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا) اور گھر کی دوسری عورتوں کو ساتھ لے کر مدینہ روانہ ھوگئے۔

مدینہ منورہ میں بھی آپ ھمیشہ پیغمبر خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی بھی علی کو اپنے سے جدا نھیں کرتے تھے ۔ اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکی شادی آپ نے ان کے ساتھ کردی تھی اور ایسے ھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان دوستی اور برادری کا معاھدہ کرتے تو حضرت علی کو اپنا بھائی کھہ کر پکارا کرتے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام جنگوں میں شرکت کی اور ھر جنگ میں حاضر رھے سوائے جنگ تبوک کے کیونکہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو مدینہ میں اپنی جگہ قائم مقام کے طور پر مقرر فرمایا تھا۔ لھذا حضرت علی علیہ السلام نہ تو کبھی کسی جنگ میں پیچھے رھے اور نہ ھی کبھی کسی دشمن سے شکست کھائی اور نہ ھی کسی کام میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کی۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ علی ھر گز حق سے جدا نھیں ھے، اور حق علی سے جدا نھیں ھے۔( ینابیع المودة ، غایت المرام )

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے وقت آپ کی عمرتیتیس سال کی تھی اگر چہ آپ تمام فضائل دینی میں سے سب سے بڑھ کر تھے اور تمام اصحاب کے درمیان ممتاز تھے پھربھی اس بھانے سے کہ آپ جوان ھیں اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں چونکہ جنگوں میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور سب سے آگے ھوتے تھے ، ان جنگوں میں خونریزی کی وجہ سے لوگ آپ کے مخالف اور دشمن ھو گئے تھے، آپ کو خلافت سے الگ کر دیا گیا اور اس طرح آپ عمومی کاموں میں حصہ نہ لے سکے اور گھر میں گوشہ نشین ھو کر اشخاص کی تربیت کرنے لگے۔ آپ پچیس سال تک یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد تین خلفاء کی خلافت کے زمانے میں حکومت اور خلافت سے بالکل الگ تھلگ رھے تھے اور خلیفہ سوم کے قتل کے بعد عوام نے آپ کو خلیفہ منتخب کرکے آپ کے ھاتھ پر بیعت کی تھی۔

حضرت علی علیہ السلام اپنے زمانۂ خلافت میں جو تقریباً چار سال نو مھینے جاری رھا، پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور روش پر عمل پیرا رھے۔ آپ نے اپنی خلافت کو ایک تحریک یا انقلاب میں تبدیل کردیا اور اس کے ساتھ اصلاحات بھی شروع کیں لیکن چونکہ یہ اصلاحات بعض مفاد پرست لوگوں کے نقصان میں تھیں اس لئے بعض اصحاب پیغمبرنے جن میں آگے آگے حضرت عائشہ، طلحہ، زبیر، اور معاویہ تھے، خلیفہ سوم کے خون کو بھانہ بنا کر آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ھوگئے اور اس طرح انھوں نے شورش، بغاوت اور نافرمانی شروع کردی۔

حضرت علی علیہ السلام نے اس فتنے کو فرو کرنے کے لئے ام المومنین عائشہ ،طلحہ اورزبیر کے ساتھ بصرہ کے نزدیک جنگ کی جو -------”جنگ جمل“کے نام سے مشھورھے۔ایک دوسری جنگ معاویہ کے ساتھ عراق اورشام کی سرحد پر لڑی جس کو ”جنگِ صفین“کھا جاتا ھے ۔ یہ جنگ ڈیڑھ سال تک جاری رھی۔اسی طرح ایک اور جنگ نھروان کے علاقے میں خوارج کے ساتھ کی جس کو”جنگِ نھروان“کھتے ھیں۔آپ کے زمانۂ خلافت میں زیادہ وقت داخلی شورشوں اور فتنوں کو فرو کرنے میں گزرا۔تھوڑے ھی عرصے بعدماہ رمضان کی انیس تاریخ کی صبح ۴۰ئھجری مسجد کوفہ میں نماز پڑھتے ھوئے شکشت خوردہ خوارج ابن ملجم کے ھاتھوں آپ کے سر پرکاری زخم لگا اور آپ اکیس ماہ رمضان کی رات شھادت پاگئے۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام ،تاریخی شھادت اوردوست و دشمن کے اعتراف و قول کے مطابق انسانی کمالات میں بالکل بے عیب تھے ۔ اسی طرح فضائل اسلامی میں بھی آپ پیغمبر اکرم کی تربیت کا بھترین نمونہ تھے۔

آپ کی شخصیت کے بارے میں جو بحثیں ھوئی ھیں اور ان کے متعلق سنّی اور شیعہ حضرات اور دنیا کے محققین نے جس قدر کتابیں لکھی ھیں، اتنی کسی اور شخصیت کے بارے میں نھیں لکھی گئی ھیں۔

حضرت علی علیہ السلام علم و دانش میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اور تمام مسلمانوں میں سب سے دانا اور عقلمند تھے۔ آپ پھلے مسلمان ھیں جنھوں نے اپنے علمی بیانات میں آزاد عقلی استدلال اور دلیل و برھان کا راستہ کھولا اور معارف اسلامی میں فلسفیانہ بحث کو جاری کیانیز قرآن کریم کے باطن کے متعلق موضوعات کا بیان فرمایا۔ ان سب کے علاوہ قرآنی الفاظ کی حفاظت کے لئے آپ نے عربی زبان میں ایک گرامر بھی لکھی۔ آپ فن تقریر میں بھی اعلیٰ پایہ کی شخصیت رکھتے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام شجاعت اور بھادری میں ضرب المثل تھے۔ ان تمام جنگوں میں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں یا آپ کے بعد لڑی گئیں آپ نے سب میں شرکت کی اور کبھی خوف و وحشت اور اضطراب آپ کے نزدیک بھی پھٹکنے نہ پائے اگر چہ بارھا ان واقعات و حوادث سے جو جنگ احد، جنگ حنین، جنگ خیبر اور جنگ خندق میں پیش آئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب پر خوف و ھراس طاری ھو گیا تھا یا ان میں سے بعض منتشر اور فرار ھو گئے تھے لیکن اس کے با وجود آپ نے کبھی دشمن کو پیٹھ نھیں دکھائی اور کبھی ایسا بھی نھیں ھوا کہ کفار اور جنگی ناموروں میں سے کوئی آپ کے ساتھ مقابلہ کرے اور زندہ بچ جائے۔ اسی طرح بھادری اور شجاعت کے باوجود آپ(ع) کسی کمزور کو قتل نھیں کرتے تھے اور میدان جنگ سے بھاگ جانے والوں کا پیچھا نھیں کرتے تھے اور نہ ھی شبخون مارتے اور نہ ھی دشمن کے لئے پانی بند کرتے تھے۔

یہ امر تاریخی حقائق میں سے ھے کہ حضرت علی (ع) نے جنگ خیبر میں ایک زبردست حملہ کیا اور قلعے کے دروازے کے حلقے میں ھاتھ ڈال کر ایک جھٹکے کے ساتھ قلعے کا دروازہ اکھاڑ کر دور پھینک دیا تھا۔

اسی طرح فتح مکہ کے دن جب پیغمبر اکرم نے بتوں کو توڑ دینے کا حکم صادر فرمایا تھا تو بت ”ھبل“ جو مکہ کے سب سے بڑے بتوں میں شمار ھوتا تھا، بھت بھاری اور بڑے پتھر سے بنا ھوا تھا اور کعبے کے عین اوپر نصب کیا گیا تھا حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے آپ کے کندھوں پر پاؤں رکہ کر کعبہ کی چھت پر چڑھ کر بت ھبل کو وھاں سے اکھاڑ کر نیچے پھینک دیا تھا۔

حضرت علی علیہ السلام دینی تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں بھی یگانہ روزگار تھے۔ جو لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر حضرت علی (ع) کی تندی اور سختی کی شکایت کیا کرتے تھے، آپ ان سے فرماتے کہ علی (ع) کا گلہ نہ کرو اور نہ ھی ان کو ملامت اور سرزنش کرو کیونکہ وہ خدا کا عاشق ھے۔( مناقب آل ابی طالب ، مناقب خوارزمی )

ابودرداء صحابی نے ایک دفعہ حضرت علی (ع) کی لاش کو مدینے کے ایک نخلستان میں دیکھا کہ لکڑی کی طرح خشک پڑی ھوئی ھے ۔وہ آپ کے گھر اطلاع دینے آئے اور آپ کی بیوی (حضرت فاطمہ زھراسلام اللہ علیھا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیاری بیٹی تھی) کہ ساتھ افسوس اور تعزیت کا اظھار کیا اور ان کے شوھر کی وفات کی خبر دی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی نے فرمایا: میرے چچا کا بیٹا مرا نھیں ھے بلکہ عبادت کے دوران خوف خدا سے اس پر غشی کی حالت طاری ھو گئی ھے اور اکثر ایسا ھوتا رھتا ھے۔

حضرت علی علیہ السلام کی اپنے ماتحتوں کے ساتھ مھربانی، غریب اور بیکس لوگوں کے ساتھ ھمدردی، غریبوں اور فقیروں کے ساتھ کرم و سخاوت کی داستانیں زبان زد خاص و عام ھیں۔ آپ کے ھاتھ جو کچھ بھی آتا تھا اس کو خدا کی راہ میں غریبوں اور بیکس لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے تھے اورخود بڑی تنگی میں بھت ھی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ کھیتی باڑی کو بے حد پسند کرتے تھے لیکن جس زمین کو آباد کرتے اس کو غریبوں اور فقیروں کے لئے وقف کردیتے تھے۔ آپ کی وقف شدہ ملکیت کو ”وقف علی“ کھا جاتا ھے۔ آپ کے آخری زمانے میں اس وقف شدہ ملکیت سے اچھی خاصی آمدنی ھوتی تھی جو تقریباً چوبیس ھزار دینار (سونے کا سکہ) سالانہ تھی۔

 

فھرست    

دوسرے امام

 

امام حسن علیہ السلام اور آپ کے چھوٹے بھائی امام حسین علیہ السلام، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے بیٹے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے بطن مبارک سے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بارھا فرمایا تھا کہ حسن و حسین علیھما السلام میرے بیٹے ھیں اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام اپنے تمام بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: تم میرے بیٹے ھو اور حسن و حسین علیھما السلام رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ھیں۔( مناقب ابن شھر آشوب ، ذخائر العقبی)

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت   ۳ھء مدینہ میں ھوئی تھی۔ انھوں نے سات سال اور کچھ مھینے تک اپنے نانا (رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی وفات سے تین یا چہ مھینے پھلے ھوئی، آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آگئے تھے۔

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اپنے والد گرامی کی شھادت کے بعد خدا کے حکم اور حضرت علی علیہ السلام کی وصیت کے مطابق امامت کے درجے پر فائز ھوئے اور ساتھ ساتھ ظاھری خلافت کے عھدیدار بھی بنے۔ تقریباًچہ ماہ تک آپ مسلمانوں کے خلیفہ رھے اور امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالے رھے۔ اسی مدت میں معاویہ جو حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے خاندان کا سخت ترین دشمن تھا اور کئی سال سے خلافت کی حرص و خواھش میں (سب سے پھلے خلیفہ سوم کے خون کے بدلے کے بھانے اور آخر کار خلافت کا دعویدار ھونے کی وجہ سے) اس نے کئی جنگیں بھی کی تھیں اور کئی بار عراق پر چڑھائی کی تھی جو اس زمانے میں امام حسن ہ السلام کا دار الخلافہ تھا، اس طرح آپ سے بھی جنگ شروع کر رکھی تھی۔ دوسری طرف اس نے امام حسن(ع) کے فوجی جرنیلوں اور سپاھیوں کو بھت زیادہ پیسہ اور مستقبل کے جھوٹے وعدے دے کر اپنے ساتھ ملالیا تھا۔ اس طرح اس نے ان کو امام حسن(ع) کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرلیا تھا۔

آخر کار امام حسن علیہ السلام صلح پر مجبور ھوکر اس شرط پر ظاھری خلافت سے دست بردار ھو گئے کہ معاویہ کے مرنے کے بعد خلافت دوبارہ امام حسن علیہ السلام کو واپس مل جائے گی اور اس کے ساتھ ھی ان کے خاندان اور طرفداروں کے لئے کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں گی۔

معاویہ نے اسلامی خلافت پر قبضہ کرلیا اور عراق میں داخل ھو کر ایک عام سرکاری تقریر میں صلح کی شرائط کو منسوخ کردیا۔ اس نے ھر ممکن ذریعے سے فائدہ اٹھاتے ھوئے اھل بیت(ع) اور ان کے طرفداروں پر سختیاں شروع کردیں۔

امام حسن علیہ السلام نے اپنی امامت کے تمام عرصے میں جو کہ دس سال کا تھا، بھت ھی سیاسی گھٹن اور سختی میں زندگی گزاری۔ ان کے لئے یا ان کے خاندان حتی کہ ان کے گھر کے اندر بھی ان کے لئے جائے امن نہ تھی۔ آخر کار  ۵۰ھ میں معاویہ کے اکسانے پر آپ کی بیوی (جعدہ) نے آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا۔

امام حسن علیہ السلام انسانی کمالات میں اپنے والد گرامی کا کامل نمونہ اور اپنے نانا بزرگوار کی نشانی تھے۔ جب تک پیغمبر اکرمب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ رھے آپ اور آپ کے بھائی (امام حسین علیہ السلام) ھمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس رھتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھی ان کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیا کرتے تھے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عام و خاص نے بھت زیادہ احادیث بیان کی ھیں کہ آپ نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

”یہ دونوں میرے بیٹے امام ھیں، خواہ وہ اٹھیں یا بیٹھیں۔“ (کنایہ ھے ظاھری خلافت کے عھدیدار ھونے یا نہ ھونے کا)۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی آپ کے والد بزرگوار کی خلافت کے بعد آپ کی جانشینی کے بارے میں بھی بھت زیادہ احادیث موجود ھیں۔( ارشاد مفید )

 

فھرست    

 

تیسرے امام

 

سید الشھداء حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت علی علیہ السلام اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کے دوسرے فرزند تھے۔ آپ کی ولادت  ۴ھء میں ھوئی تھی۔ اپنے بڑے بھائی امام حسن مجتبی ٰعلیہ السلام کی شھادت کے بعد خدا کے حکم اور دوسرے امام کی وصیت کے مطابق منصب امامت پر فائز ھوئے ۔

امام حسین علیہ السلام نے دس سال امامت کی اور اس تمام عرصے میں بھت ھی سخت حالات اور سیاسی گھٹن کی حالت میں زندگی گزاری ، کیونکہ اس زمانے میں دینی اصول و قوانین کی حیثیت ختم ھو چکی تھی اور حکومتی قوانین و احکام، خدا و رسول کے احکام کے جاگزیں ھو چکے تھے۔ ادھر معاویہ اور اس کے ساتھی اھلبیت علیھم السلام اور ان کے پیروکاروں کو ختم و نابود کرنے اور اسی طرح علی علیہ السلام اور اھلبیت علیھم السلام کا نام مٹانے کے لئے ھر کوشش اور امکان سے استفادہ کیا کرتے تھے۔

امام حسین علیہ السلام مجبوراً اس تاریک دور میں زندگی گزار رھے تھے اور ھر قسم کی سختیوں، روحانی شکنجوں اور اذیتوں کو جو معاویہ اور اس کے پیروکاروں کی طرف سے آپ پر وارد ھوتی تھیں، برداشت کر رھے تھے یھاں تک کہ ۶۰ھ میں معاویہ فوت ھوگیا اور اس کا بیٹا یزید اس کی جگہ بادشاہ بن گیا۔

بیعت کرناایک عربی رسم تھی جو اھم کاموں مثلاً سلطنت اور امارات میں جاری تھی اور ما تحت  یا خاص کرمشھور لوگ اپنے سلطا ن،بادشاہ یا امیرکے ھاتھ پر بیعت کیا کرتے تھے اور اس طرح اپنی وفاداری ،اطاعت اورموافقت کا اظھار کرتے تھے اورپھر بیعت کے بعد مخالفت کرنا قومی غداری اورشرمساری شمار کی جاتی تھی۔ یہ مخالفت ایک قطعی اور مضبوط معاھدے کی خلاف ورزی اور جرم کے مترادف تھی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت میں بھی مجموعی طور پر وھی بیعت قابل قبول ھوتی تھی جو پورے اختیار کے اور کسی دباؤ کے بغیر ھو، نہ کہ دباؤ کے ذریعے۔

معاویہ نے بھی قوم کے بڑے بڑے اور مشھور لوگوں سے یزید کے لئے بیعت حاصل کرلی تھی لیکن امام حسین علیہ السلام پر کسی قسم کا بیعت کا دباؤ نھیں ڈالا گیا تھا یا ان سے بیعت کے لئے نھیں کھا گیا تھا اور نہ ھی یزید کی بیعت امام حسین(ع) کے لئے فرض کی گئی تھی۔ اس نے یزید کو خصوصاً نصیحت اور وصیت کی تھی کہ اگر حسین ابن علیعلیہ السلام تمھاری بیعت سے انکار کرے تو زیادہ اصرار نہ کرنا اور خاموشی اور چشم پوشی سے کام لینا، کیونکہ وہ اس مسئلے میں کافی تحقیق کرچکا تھا اوراس کام کے سخت نتائج کو اچھی طرح سے سمجھتا تھالیکن یزید اپنے غرور و تکبر اور دیدہ دلیری میں اپنے باپ کی نصیحت کو بھول چکا تھا اور اس نے اپنے باپ کی وفات کے فوراً بعد مدینے کے حاکم کو حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام سے اس کی بیعت لے ورنہ ان کا سر کاٹ کر شام بھیجا جائے۔

جب مدینے کے حاکم نے یزید کی خواھش کو امام حسین علیہ السلام کے سامنے بیان کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اس پر غور کرنے کے لئے کچھ مھلت چاھی۔ اس کے بعد راتوں رات اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ سے مکہ چلے آئے اور حرم کعبہ اور خانہ خدا میں جو روایتی پناہ گاہ تھی، پناہ گزیں ھو گئے۔

یہ واقعہ  ۶۰ھء کو ماہ رجب  کے آخر یا شعبان کے شروع میں پیش آیاتھا ۔ امام حسین علیہ السلام چار مھینے تک شھر مکہ میں پناہ گزیں کے طور پر زندگی گزارتے رھے۔ ایک طرف تو وہ لوگ جو معاویہ کے زمانہ خلافت میں اس کے ظلم و ستم کی وجہ سے ناراض تھے اور پھر یزید کی خلافت نے ان کی ناراضگی میں اور بھی اضافہ کردیا تھا، امام حسین علیہ السلام سے ھمدردی کا اظھار کرتے تھے اور دوسری طرف عراق خصوصاً شھر کوفہ سے یکے بعد دیگے خطوط آرھے تھے جن میں امام حسین علیہ السلام کو عراق آنے اور ان لوگوں کی قیادت سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی، تاکہ ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لئے انقلاب برپا کریں۔لیکن یہ واقعات یزید اور اس کی حکومت کے لئے سخت خطرہ تھے۔

مکہ معظمہ میں امام حسین علیہ السلام کا قیام جاری تھا،یھاں تک کہ حج کا زمانہ آگیا اور دنیا کے مسلمان گروہ در گروہ اور جوق در جوق مکہ میں آنا شروع ھوگئے اور حج کرنے کے لئے تیار ھوگئے۔ اس وقت حضرت امام حسین علیہ السلام کو اطلاع ملی کہ یزیدی لوگوں کی ایک جماعت حاجیوں کی شکل میں مکہ میں داخل ھوگئی ھے جن کو مامور کیا گیا تھا کہ اپنے احرام کے نیچے ھتھیار کے ذریعے فریضہ حج کے دوران امام حسین(ع) کو شھید کردے۔

امام حسین علیہ السلام نے فریضہ حج کو مختصر طور پر ادا کرتے ھوئے وھاں سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے لوگوں کی ایک جماعت کے سامنے مختصر سی تقریر کرتے ھوئے عراق کی جانب جانے کی اطلاع دی۔ آپ نے اپنی شھادت کی خبر بھی دی اور اس کے ساتھ ھی مسلمانوں سے مدد کی درخواست بھی کی کہ اس اھم کام میں ان کی مدد کریں اور خدا کی راہ میں اپنا خون بھادیں۔ اس سے اگلے دن آپ اپنے خاندان اور چند ساتھیوں کے ساتھ عراق کی طرف چل پڑے۔

امام حسین علیہ السلام نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ ھرگز یزید کی بیعت نھیں کریں گے اور یہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ بیعت سے انکار کرنے کے بعد قتل ھوجائیں گے۔ بنی امیہ کی دھشتناک جنگی فوج جو عمومی بد عنوانیوں اور فکری تنزل میں رچی بسی ھوئی ھے حتماً آپ کو شھید کردے گی کیونکہ اس کے پاس کوئی اختیار نھیں ھے بلکہ وہ ھر یزیدی حکم کی ماننے والی ھے اور پھر اھل عراق بھی اس کے حامی اور مددگار ھیں۔

بعض مشھور و معروف افراد نے خیر خواھی اور ھمدردی کے طور پر آپ کا راستہ روک لیا اور آپ کو اس سفر اور تحریک کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا لیکن آپ نے جواب میں فرمایا:

”میں ھرگز بیعت نھیں کروں گا اور ظالم و ستمگر حکومت کی تائید و تصدیق نھیں کروں گا۔ میں یہ بھی جانتا ھوں کہ جھاں کھیں جاؤں گا یا رھوں گا، مجھے قتل کردیں گے۔چونکہ میں مکہ معظمہ کو خیرباد کھہ رھا ھوں، اس کا مطلب یہ نھیں کہ میں ڈر یا خوف سے یھاں سے بھاگ رھاں ھوں، بلکہ میرے سامنے خانہ خدا کی حرمت کا خیال ھے تاکہ میرا خون گرنے سے اس پاک گھر کی توھین اور بے حرمتی نہ ھو۔“(ارشاد مفید )

امام حسین علیہ السلام کوفہ کے طرف چل پڑے۔ ابھی کوفہ پھنچنے میں چند دنوں کا فاصلہ تھا کہ آپ کو اطلاع ملی کہ کوفہ میں یزید کے حاکم نے آپ کے نمائندے (مسلم بن عقیل) اور ایک دوسرے مشھور آدمی (ھانی بن عروہ) کو جو آپ کا طرفدار تھا قتل کرکے ان کے پاؤں میں رسی باندہ کر شھر کے بازاروں اور گلیوں میں پھرایا ھے۔ شھر اور گرد و نواح میں پھرے بٹھا دئے ھیں اور دشمن کی ان گنت فوج آپ کے انتظار میں ھے۔ اس حالت میں شھید ھوجانے کے سوا اور کوئی چارہ یا راستہ نھیں تھا۔ اسی جگہ امام نے پختہ عزم سے فیصلہ کرلیا اور بلا شک و شبہ اپنے قتل اور شھید ھوجانے کی اطلاع بھی سب کو دیدی تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنا تاریخی سفر جاری رکھا۔

کوفہ سے تقریباً ستر کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بیابان تھا جس کو کربلا کھتے تھے۔ یھاں حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ساتھی یزیدی فوج کے محاصرے میں آگئے اور ان کو مجبوراً یھاں آٹھ دن تک ٹھھرنا پڑا۔ محاصرہ ھر روز تنگ ھوتا جاتا رھا تھا اور ساتھ ھی دشمن کی تعداد بھی بڑھتی جارھی تھی۔ آخر کار حضرت امام حسین(ع) اور آپ کے گنتی کے چند ساتھی یزید کی تیس ھزار فوج کے مکمل محاصرے میں آگئے۔

ان چند دنوں میں امام حسین علیہ السلام اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رھے اور ساتھ ھی اپنے ساتھیوں اور اصحاب کے بارے میں بھی فیصلہ کیا۔ آپ نے رات کے وقت اپنے ساتھیوں اور ھمراھیوں کو اپنے پاس بلا کر فرمایا:

”ھمارے سامنے موت اور شھادت کے سوا اور کوئی راستہ نھیں رھا۔ ان لوگوں کو میرے سوا کسی اور کے ساتھ کوئی غرض اور واسطہ نھیں ھے۔ میں تم سے اپنی بیعت واپس لیتا ھوں۔ تم میں سے جو شخص بھی چاھے رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر اس خطر ناک بھنور سے اپنی جان بچا سکتا ھے۔“

اس کے بعد آپ کے حکم سے روشنی گل کر دی گئی جب دو بارہ روشنی کی گئی تو دیکھا گیا کہ ایک فرد بھی اپنی جگہ سے ھلا تک نھیں تھا ۔

امام نے دوسری بار ان کا امتحان لیتے ھوئے فرمایا:

”دشمن صرف میرے پیچھے لگا ھوا ھے۔ تم میں سے جو بھی چاھے، رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ھوئے اس مھلک خطرے سے اپنی جان بچالے۔“

لیکن اس دفعہ امام کے وفادار اصحاب نے مختلف بیانات میں جواب دئے:

”ھم ھرگز حق کے اس راستے سے منہ نھیں پھیریں گے جس کے آپ امام اور رھبر ھیں۔ ھم ھرگز آپ کے دامن پاک کو نھیں چھوڑیں گے اور جب تک ھمارے بدنوں میں خون کی آخری رمق باقی ھے اور ھمارے ھاتھوں میں تلوار موجود ھے، ھم آپ کی حفاظت کریں گے۔“( مناقب ابن شھر آشوب )

دشمن کی طرف سے نویں محرم کو امام حسین علیہ السلام کو ”بیعت یا جنگ“ کا آخری انتباہ دیا گیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عبادت کے لئے ایک رات کی مھلت مانگی اور آنے والے کل کی جنگ کے لئے تیار ھو گئے۔

دس محرم الحرام  ۶۱ھء کو امام حسین علیہ السلام اپنے نھایت قلیل اصحاب کے ساتھ دشمن کے بے انتھا لشکر کے سامنے صف آرا ھوگئے اور اس طرح جنگ شروع ھو گئی۔

اس دن صبح سے لے کر شام تک جنگ جاری رھی۔ امام، تمام ھاشمی جوان اور ان کے باوفا اور جاں نثار اصحاب یکے بعد دیگرے شھید ھوگئے (شھید ھونے والوں میں امام حسن(ع) کے دو چھوٹے کمسن بچے، امام حسین(ع) کا ایک چھوٹا اور ایک شیر خوار بچہ بھی شامل تھا)۔

دشمن کی فوج نے جنگ کے بعد امام حسین علیہ السلام کے حرم کو لوٹ لیا اور خیموں کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد شھیدوں کے سروں کو ان کے جسموں سے الگ کرکے لاشوں کوبے گور و کفن اِدھر اُدھر پھینک دیا۔ پھر اھل حرم نے جو کہ سبھی بے آسرا و بے وارث مستورات اور بچیاں تھیں، شھیدوں کے ساتھ کوفہ کی طرف کوچ کیا۔ (قیدیوں میں مرد بھت کم تھے۔ ان میں امام حسین علیہ السلام کے فرزند امام زین العابدین جو سخت بیمار تھے یعنی شیعوں کے چوتھے امام اور ان کے چار سالہ فرزند محمد بن علی (امام باقرعلیہ السلام) جو بعد میں پانچویں امام ھوئے۔  قیدیوں کے ساتھ کوفہ کی طرف لے جائے گئے۔ پھر کوفہ سے دمشق لے جا کر یزید کے دربار میں ان کو حاضر کیا گیا۔

واقعہ کربلا، حرم اھلبیت علیھم السلام کو شھر بشھر پھرانے اور امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی بیٹی حضرت زینب سلام اللہ علیھا اور امام زین العابدین علیہ السلام کی تقاریر نے (جو انھوں نے کوفہ اور شام میں کی تھیں، بنو امیہ کی حکومت کو ھلا کر رکہ دیا اور ذلیل و خوار کر دیا اور معاویہ کے پروپیگنڈوں کا اثر زائل کر دیا بلکہ نوبت یھاں تک پھنچی کہ یزید نے سب کے سامنے اپنے جرنیلوں اور ماموروں کے عمل سے بیزاری اور نفرت کا اظھار شروع کردیا۔ کربلا کا واقعہ ایک اھم عنصر تھا جس کے فوری اثر نے بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور مذھب شیعہ کی بنیاد بھت مضبوط کر دی تھی۔ اس واقعہ کا فوری اثر یہ ھوا کہ انقلاب اورشورشیں شروع ھو گئیں اور ساتھ ھی خونریز جنگوں کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع ھوگیا جو بارہ سال تک جاری رھا۔ جن لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شرکت کی تھی ان میں سے ایک شخص بھی انتقام سے نھیں بچ سکا۔

جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زندگی، یزید کی حکومت کی تاریخ اور اس زمانے کے حالات و واقعات پر غور کرے اور تاریخ کے اس حصے میں تحقیق کرے اس کے لئے کوئی شک و شبہ باقی نھیں رھے گا کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام کے سامنے صرف ایک یھی راستہ تھا اور وہ تھا شھادت کا راستھ۔ یزید کی بیعت کرنے کا مطلب یہ تھا کہ اعلانیہ طور پر اسلام کے اصولوں کو پامال اور قربان کردیا جائے اور یہ چیز امام حسین علیہ السلام کے لئے ھرگز قابل قبول نہ تھی کیونکہ یزید نہ صرف دینِ مقدس اسلام کے قوانین اور اصولوں کا کوئی احترام نہ کرتا تھا بلکہ اسلام کے قوانین اور اصولوں کو پامال کرنے میں بھی بے باکانہ اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔

اس کے بر خلاف اس سے پھلے حکمراں اگر چہ اصولوں کی مخالفت کیا کرتے تھے مگر جو کچھ بھی کرتے دین کے پردے میں انجام دیتے تھے۔ دینی امور کو ظاھری طور پر محترم شمار کیا کرتے تھے۔

جیسا کہ بعض مفسرین نے کھا ھے کہ یہ دونوں امام (امام حسن(ع) اور امام حسین(ع)) مختلف نظریات رکھتے تھے یعنی امام حسن علیہ السلام صلح پسند تھے اور امام حسین(ع) علیہ السلام جنگ اور جھاد کو ترجیح دیتے تھے، کیونکہ ایک بھائی چالیس ھزار جنگی سپاھی رکھتے ھوئے بھی معاویہ کے ساتھ صلح کرلیتا ھے اور دوسرا بھائی صرف چالیس افراد کے ساتھ یزید کے خلاف جنگ کا اعلان کردیتا ھے، یہ بات بالکل بے جا ھے۔

ھم دیکھتے ھیں کہ یھی امام حسین علیہ السلام جو اک دن یزید کی بیعت پر آمادہ نھیں ھوئے تھے، اپنے بھائی امام حسن(ع) کی طرح دس سال تک معاویہ کی حکومت میں زندگی گزارتے رھے (کہ وہ بھی دس سال تک معاویہ کی حکومت میں زندگی گزارتے رھے تھے) اور انھوں نے ھرگز مخالفت نہ کی تھی کیونکہ اگر اس وقت امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام معاویہ کے خلاف جنگ کرتے تو اس میں کوئی شک نھیں کہ شھید ھوجاتے مگر اسلام کو کوئی فائدہ نہ پھنچتا۔ اس لئے کہ معاویہ کی بظاھر حق بجانب سیاست کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو پیغمبر اکرم کا صحابی، کاتب وحی اور خال المومنین کے طورپر تعارف کراتا تھا لیکن دوسری طرف کسی قسم کے فریب سے بھی نھیں چوکتا تھا، بالکل کوئی اثر نہ ھوتا۔

اس کے علاوہ معاویہ اپنے کارندوں کے ذریعے ان دونوں اماموں کو قتل کرواسکتا تھا اور پھر ان کی سوگواری اور تعزیت کرتے ھوئے ان کا ظاھری انتقام لینے پر بھی آمادہ ھوجاتا جیساکہ اس نے خلیفہ سوم کے ساتھ بھی یھی سلوک کیا تھا۔

 

فھرست    

 

چوتھےامام

 

امام سجادعلیہ السلام (علی بن الحسین، جن کے القاب زین العابدین اور سجاد تھے) چوتھے امام ھیں۔ آپ تیسرے امام (امام حسین علیہ السلام) کے فرزند تھے اور ایرانی شھنشاہ یزد جرد کی بیٹی شھر بانو کے بطن سے پیدا ھوئے تھے۔ آپ، امام سوم کے اکیلے فرزند تھے جو کربلا میں زندہ بچ گئے تھے ۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ کربلا میں تشریف لائے تھے لیکن چونکہ سخت بیمار تھے اور ھتھیار اٹھانے اور جنگ میں شرکت کرنے کی طاقت نھیں رکھتے تھے اسی لئے جھاد اور شھادت سے معزور رہ گئے تھے اور حرم کے قیدیوں کے ساتھ شام بھیج دئے گئے۔

قید کا زمانہ گزارنے کے بعد یزید کے حکم سے عوامی مخالفت کو نرم کرنے کے لئے آپ کو احترام کے ساتھ مدینے بھیج دیا گیا تھا مگر دوبارہ آپ کو اموی خلیفہ عبد الملک کے حکم سے پا بہ زنجیر مدینہ سے شام لایا گیا لیکن کچھ عرصے بعد پھر مدینے تشریف لے آئے۔

امام چھارم مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنے گھر میں گوشہ نشین ھو گئے اور اپنے گھر کے دروازے تمام لوگوں پر بند کرکے خدا کی عبادت میں مشغول ھوگئے اور اپنے خاص شیعوں مثلاً ابوحمزہ ثمالی، ابو خالد کابلی اور ایسے ھی چند دوسرے افراد کے سوا کسی اور سے نھیں ملتے تھے۔ البتہ یہ خاص لوگ اپنے امام سے جو تعلیمات حاصل کرتے تھے آپ کے پیروکاروں تک پھنچا دیتے تھے اور اس طرح مذھب شیعہ روز بروز ترقی کرتا گیا جس کے بیشتر اثرات پانچویں امام کے زمانے میں رونما ھوئے۔

چوتھے امام کی دعاؤں کی ایک کتاب ”صحیفہ سجادیھ“ کے نام سے مشھور ھے یہ ستاون دعاؤں پر مشتمل ھے جن میں بھت ھی عمیق اور اسرار و معارف الھی پوشیدہ ھیں ۔اسی ”مجموعے کو زبور آل محمد“ بھی کھا جاتا ھے۔

امام چھارم کو پینتیس سال کی امامت کے بعد بعض احادیث کے مطابق اموی خلیفہ ھشام بن عبد الملک کی ایما پر ولید بن عبد الملک نے زھر دیدیا تھا اور آپ ۹۵ ھ میں شھادت پا گئے تھے۔