بسم الله تعالی
کونسا علم قابل قدر هے؟
علم وآگهی کو کسی اور مذھب نے اتنی اهمیت نهیں دی جتنی اهمیت اسلام نے اس لیئے دی هے ۔جو امتیازات اس آسمانی دین کو حاصل هیں ان میں سے ایک بڑا امتیاز یه هے که مختلف ابعاد میں اس دین کے مبانی کوعلم ومعرفت اور تفکر وتعقل تشکل دیتے هیں ۔اسی بنیاد پر قرآن وحدیث میں هر دوسری چیز سے زیاده اس حقیقت کی ترجمانی کرنے والی اصطلاحات پر توجه دی گئی هے جیسے علم ،تعقل وتفقه وغیره۔
قرآن کریم میں ،علم ، کا لفظ 105مرتبه آیاهے اور مختلف صورتوں ﴿جیسے یعلمون ،تعلمون وغیره میں 770 مرتبه سے زیاده استعمال هواهے اسی طرح اس آسمانی کتاب میںمختلف صورتوں میں 49مرتبه عقل17 ،مرتبه فکراور 20 مرتبه فقه کے مادے سے کام لیا گیاهے۔
فرانس سے تعلق رکھنے والے مصنف ،ژول لابوم،نے قرآن کریم کے ترجمه پر مقدمه تحریر کرتے هوئے اسلام کے باره امتیاز کا ذکر کیا هے ان میں سے ایک امتیاز اسلام میں علم اور عقل کو دی جانے والی خصوصی اهمیت هے ا سلام سے پهلے مختلف ادیان کے پیرو کار یه سمجھا کرتے تھے که عقل اور دین ایک دوسرے سے ناموافق هیں اور یه باهم موافق هو بھی نهیں سکتے،کیونکه دین کا تعلق عقل اورمنطق سے ماوائ ایک دوسرے هی دنیاسے هے۔
هم اسلام کی نگاه میں عقل اور علم کی قدر وقیمت کے بارے میں گفتگو کا اراده نهیں رکھتے،اس موضوع پرکرت سے اظهار خیال کیا جاتاهے دین اسلام میں علم ودانش کی ارفع اهمیت کے اظهار کے لئے درج ذیل آیت هی کو پیش کرنا کافی هے،
،انّ شر الدواب عند الله الصم البکم الذین لا یعقلون،،الله کے نذدیک بدترین اهل زمین وه بهرے اور گونگے هیں جو عقل سے کام نهیں لیتے هیں﴿سوره انفال٨،آیت٢٢﴾۔
ٰ یه آیت صاف الفاظ میں اعلان کرتی هے که جاهل لوگ اور وه افرادجو عقل وتفکر کی نعمت سے محرام هیں خداکے نذدیک تمام اهل ارض سے بدتر هیں ۔
همارے خیال میں علم وآگهی کی اهمیت اور قدر وقیمت واضح کرنے کے لئے اس سے بهتر کوئی تعبیر هیں لائی جاسکتی۔جی هاں اسلام کی نظرمیںعلم وآگهی کی اهمیت هر قسم کی شک وشبه سے مبره هے۔البته جس بات کو زیاده اهمیت دینے کی ضرورت هے اور جس کا غورسے جائزه لیاجانا چاهئے وه یه هے که اسلام کس علم ودانش اور کونسے علماء ودانشوروں کی مدح وستائش کرتا هے، اور اس کی اس قدر تعریف وتمجید کا فلسفه کیا هے ؟
وه کونسا علم ودانش هے جو جو پیغمبر (ص) کے فرمان کے مطابق ،تمام فضائل کی بنیاد هے ﴿راس الفضائل العلم﴾۔جس کے مالک کاسونااسے محروم کی نمازوںسے بهترهے﴿نوم مع علم خیرمن جھل﴾بحارالانوار،ج،١،ص٥٨١۔جس کی معمولی مقدار کثیر عبادتون سے افضل هے﴿قلیل من العلم خیر من کثیرالعبادۃ﴾بحارالانوار،ج،١،ص٥٨١۔جس کا حصول هر مسلمان مرد وزن پرواجب هے ﴿طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ﴾بحارالانوارج،١،ص٧٧١۔اور امام جعفر صادق (ع) سے کے فرمان کے مطابق جس کا حاصل کرنا اتنا ضروری هے که چاهئے اس راه میں خون بهانا پڑے اور سمندر عبور کرنا پڑیں﴿ لو علم النا س ما فی العلم لطلبوه ولو سفک المھج وخوج الجج ﴾بحارالانوار،ج،١،ص177۔جس کا حصول بهر صورت ضروری هے ﴿طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم الا انّ الله یجب بغاۃ العلم﴾بحارالانوار،ج،١،ص185۔
کونسا طالب علم اس عظیم درجه پر فائز هو گا جس کے متعلق پیغمبر اسلام (ص) فرما تے هیں که زمین وآسمان کے درمیان جو کچھ هے وه اس کے لئے دعاگو هے﴿وانّه یستغفرلطالب علم فی السمائ ومن فی الارض حتی الحوت فی البحر﴾بحارالانوار،ج،١،ص٤٦١۔اور ایسا علم جس کے زریعے اسلام کو زنده کرے اگر اس کی حصول کے دوران اس کی موت واقع هو جائے تو جنت میں اس کے اور انبیائ الھی کے درمیان صرف ایک درجه کا فاصله هوگا ﴿من جائ ه الموت وھو یطلب العلم لیحی به الاسلام کان بینه وبین الانبیائ درجۃ واحدۃ فی الجنۃ﴾بحارالانوار،ج،١،ص184۔وه جاهل لوگوں کے درمیان ایسا هے جیسے مردوں کے درمیان ایک زنده﴿طالب العلم بین الجھال کاالحی بین الاموات﴾بحارالانوار،ج،١،ص١٨١۔اور حضرت علی کے ارشاد کے مطابق راه خدا کے مجاهدوں کے مانند هے ﴿ الشاخص فی طلب العلم کا المجاھد فی سبیل الله﴾بحارالانوار،ج،١،ص179۔
وه کونسا عالم هے جس کے بارے میں کها گیا هے که اس کے قلم کی سیاهی شهدائ کے خون سے افضل هے ﴿اذاکان یوم القیامۃ جمع الله عزوجل الناس فی صعید واحدووضعت الموازین فتوزن دمائ الشهدائ مع مداد العلمائ فیر جع مداد العلمائ علی دمائ الشهدا ئ﴾ بحارالانوار،ج،١،ص14۔جو وارث انبیائ هے ﴿ان ّ لعلمائ ورثۃ الانبیائ﴾بحارالانوار،ج،٢،ص92۔اور جو پیغمبر اسلام (ص) کے ارشاد کے مطابق بعض انبیائ ماسبق کے مانند عظمت اور منزلت کا مالک هے﴿علمائ امتی کا نبیائ بنی اسرائل﴾ بحارالانوار،ج،٢،ص٢٢۔ حد یه هے که اس پر نگاه ڈالنا بھی عبادت میں شمار هوتاهے ﴿ النظر فی وجه العالم حباله عبادۃ ﴾بحارالانوار،ج،١،ص205۔
اور امام جعفر صادق (ع) کے بقولجس کی موت اسلام کی دیوار میں ناقابل تلافی دڑاڑڈال دیتی هے﴿اذامات المئومن الفقیه ثلم فی الاسلام ثلمۃ لایسدھا شیئی﴾بحارالانوار،ج،١،ص220۔اور اما م محمد باقر(ع) کے فرمان کے مطابق ایسا عالم جو اپنی علم سے مستفید هو ستر هزار عابدوں سے برتر هے ﴿عال ینتفع علمه افضل من عبادۃ سبعین الف عابد﴾بحارالانوار،ج،١،ص18۔ یهی نهیں بلکهان کے علاوه بھی دسیوں فضیلتوں کا مالک هے،مختصر یه که یه جانناکه وه کونسا علم هے جسے اسلام اتنی اهمیت دیتاهے اسکے عالم اور اسکے چلب گار کی اس قدر عظمت اور منزلت کا قائل هے ایک انتهائی اور اهم مسئله هے۔
علماء کی قدر وقیمت کا پیمانه
اسلام علم ودانش کو بهت زیاده اهمیت دیتاهے لیکن محض علم کی زیادتی کی وجه سے کسی انسان کی عظمت کا قائل نهیں هوتا بلکه اس کسو ٹی پر انسانوں کو پرکھتاهے که علم وآگهی نے ان کے اندر کتنا حساس ذمداری پدا کیا هے ۔اسلام ایسے هی علم ودانش کو قدر کی نگاه سے دیکھتا هے جو انسانوں کو ذمدار بنایئے اور اسی عالم اور طالب علم کو محترم سمجھتاهے جس میں ذمداری اور فریضه کی ادائیگی کا احساس پایاجائے۔
اسلام معاشرے میں جو علمائ ودانشوروں کی صرف اس بنیاد پر تعظیم وتکریم کا قائل نهیں که انهوں نے اپنی شخصی ذمداریوں پر عمل کیاهے اور اپنے ذاتی کردار کی تعمیر میں کامیاب هوئے هیں بلکه وه اس بات کو زیاده اهمیت دیتاهے که انهوں نے اپنے اجتماعی ذمداریوں پر کتنا عمل کیا هے اور معاشرے میں موجود خرابیوں کے خلاف کیا کردار اداکیا هے۔
اسلام کی نظر میں عالم کی ذمداری فقط اتنی نهیں که وه محض اپنی اصلاح میں مصروف رهے،بلکه اسے معاشرے کی تعمیر وترقی میں بھی حصه دار هونا چاهئے اور معاشرے میں حق وعدالت کے قیام اور اسے هر قسم کی برائیوں کے خاتمے کے لئے حتی المقدور اپنی کوششوں کو بروئے کار لانا چاهئے، چنانچه اسلامی علوم کی تحصیل کو اسلامی معاشرے کی تعمیر کا مقدمه سمجھتا هے ۔ارشاد الهی هے :
٫٫ فلو نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذر وا قومھم اذا رجعو الیھم لعلھم یحذرون ،،
٬٬ تو هر گروه میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے کیوں نهیں نکلتی هے که دین کا علم حاصل کرے اور پھر اپنی قوم کی طرف پلت کر آئے تو اسے عذاب الهی سے ڈڑائے که شاید وه اسی طرح ڈڑ نے لگیں﴿ سورۃ توبه ٩ ۔آیت 122﴾ ۔حدیث کی کتابوں میں علمائ اور دانشوروں کو ایسے القاب سے مخاطب کیا گیا هے جو انکی عظیم الشان معاشرتی ذمه داریوں کے عکاس هیں مثلاً بعض احادیث میں پیغمبر (ص) کے جانشین اور انبیائ کے وارث کے طور پر عالم کا تعارف کراگیاهے۔٫٫منیۃ المرید ،،میں شهید ثانی پیغمبرا سلام کا قول نقل کرتے هیں که آپ نے فرمایا :خدا میرے جانیشوں پر رحمت فرمائے،حضرت سے پو چھا گیا :آپ یه کن لوگوں کے بارے میں فرما رهے هیں ؟
آنحضرت (ص) نے فرمایا :وه لوگ جو میرے قوانین کو ذنده کرتے هیں اور لو گوں کو ان کی تعلیم دیتے هیں ﴿منیۃ المرید ،ص92﴾ امام جعفر صادق (ع) کا ارشاد بھی هے که علمائ انبیائ کے وارث هیں ،بحار الانوار ج٢،ص٢٢﴾۔حد تو یه هے که پیغمبر اسلام علمائ اسلام کے مقام ومنزلت کو گذشته امتوں کے بعض انبیائ کے برابر سمجھتے هیں ،بحار الانوار ج٢،ص٢٢﴾۔ ظاهر بات هے که کوئی عالم اس وقت انبیا ئ کے ،،وارث ،اور خلیفه قرار پا سکتا هے جب وه انبیائ الهی کے مانند معاشرتی خرابیوں کو گمراهیوں اور نا انصافیوں کے خلاف حتی الامکان نبرد آزماهو وگرنه انبیائ الهی کی لائی هوئی تعلیامت کا صرف حصول هی کسی کو ان القاب کا حقدار نهیں بنا تا ۔
محافظ وپاسبان
امام جعفر صادق (ع) علامئ کو محافظ وپاسبان ، سے تشبیه دیتے هوئے فرماتے هیں : علمائ شیعتنا مرابطون با لثغر الذی یلی ابلیس و عفاریته یمنعونھم عن الخروج علی ضعفا وشیعتنا ،،علما ئ شیعه وه محافظ هیں جو هما رے ضعیف پیرو کا روں کو شیطا ن کی یلغار اور اسکی مکاریوں سے محفوظ رکھتے هیں ۔﴿بحا ر لانوار ج٢،ص٥﴾
اسلام کے قلعے
امام موسی کاظم (ع) مسلمان عالم اور فقیه کو اسلام کا قلعه کهتے هیں ٫٫اذا مات المومن وثلم فی الاسلام ثلمه لا یسدھا شئی لان المومنین الفقھا ئ حصون الاسلام ،،جب کوئی مومن ﴿فقیه ﴾ فوت هو تا هے تو اور اس کے مرنے سے اسلام اسلام میں ایسا رخنا پڑ تا هے جسے کوئی شئی پُر نهیں کرسکتی ۔﴿اصول کافی ج١،ص38﴾۔
اس روایت میں مسلمان عالم کو اسلام کے مظبوط قلعه سے تشبیه دی گئی هے جو اسلامی معاشرے میں دشمنوں کے نفوز میں رکاوٹ هو تے هیں ۔ اور ایسے عالم کی موت اس مظبوط قلعے میں ایسا شگاف ڈال دیتی هے جسے پر نهیں کیا جاسکتا۔
ستر عابدوں سے زیاده با فضیلت
اسلام ایک عابد کے مقابله میںایک عالم کو زیا ده بافضیلت قرار دیتاهے،اسکی وجه یه هے که عابد صرف اپنی ذات کی صلاح میں مصروف رهتاهے جبکه عالم اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تعمیر وتهذیب کی ذمه داری کو بھی قبول کرتا هے ،اس حقیقت پر بعض رویات میں روشنی ڈالی گئی هے ۔
١۔ پیغمبراسلام (ص) فرماتے هیں : فضل العالم علی العابد سبعین درجۃ ،بین کل درجتین حضر الفرس سبعین عاما ً وذالک ان الشیطٰن یدع بدعۃ للناس فیبصرھا العالم فینھا عنھا والعابد مقبل علی عبادته لا یتوجه لھا ولا یعرفھا ،،عالم عابد ستر درجه ﴿جس میں سے هر درجه گھو ڑے کے اپنی پوری رفتار کے ساتھ ستر برس تک دوڑ نے کی مسافت کے برابر هے ﴾برتری کا مالک هے اور اس برتری کی وجه یه هے جب کبھی بھی شیطن معاشرے میں کسی بھی بدعت کو پیدا کرتا هے تو عالم اسے دیکھ کر اسکے خلاف جهاد کرتا هے جبکه عابد اپنی عبادت میں مگن رهتاهے اور اسے بدعت سرے سے نظر هی نهیں آتی اور اسے اسکا علم هی نهیں هوتا ،﴿بحا ر لانوار ج٢،ص24﴾
٢۔ امام رضا (ع)فرماتے هیں :جب قیامت برپا هوگی تو عابد کے بارے میں کها جائیگا که بهت اچھا انسان تھا ،صرف اپنی نجات کے لئے کوششوں میں مصروف رهتاهے٫٫الا ان الفقیه من افاض علی الناس خیره وانقذھم من اعدائھم،،متوجه رهو کی فقیه وه شخص هے جو معاشرے کی خدمت کرتا هے ،جس کا وجود سماج کے لئے سود مند هوتاهے اور جو لوگون کو دشمنوں کی پنجے سے نجات دلاتا هے ایسے شخص سے روز قیامت کها جا ئے گا ،اے وه جو خاندان رسالت سے تعلق رکھنے والے بے سر پرستوں کے کفیل تھے اور جنهوں نے ان ضعیف دوستوں کی راهنمائی کی تھی میدان قیامت میں تھیڑو اوران لوگوں کی شفاعت کرو جو تمهارے علم ودانش سے بهره ور هوئے تھے ،﴿بحا ر لانوار ج٢،ص٥﴾
نتیجه
اس وضاحت کی ضرورت نهیں که ٫٫وارث انبیائ ٬٬ معاشے کی محافظ اور اسلام کے قلعے ،جیسے القابات اورعابد پر عالم کی برتری کے بارے میںآنے والی روایات اس حقیقت کی عکاس هیں که اسلام کے کاندهوں پر سنگین سماجی ذمه داریاں عائد هوتی هیں اور اسلام اسگروه کی جس قدر عظمت اور منزلت کا قائل هے وه اس صورت میں هے جب وه اپنے ان ذمه داریوں کو ادا کریں اور اس تعریف وتمجید میں وه علمائ قطعاشامل نهیں جو معاشرے میں اپنی ذمه داریاں ادا نهیںکرتے۔
اپنے نظریات اور انتقادات ہمیں میل کریں (smsshm@gmail.com - shams_light96@yahoo.com) تاکہ ہم اس وبلاگ کو آپ لوگوں کے مدد سے بہتر سے بہتر بنا سکیں۔ شکریہ
نصیحت
دنیا میں سب سے آسان کام نصیحت کرنا هے اور سب سے مشکل کام نصیحت پر عمل کرنا هے ۔ میں نے اپنے لئے آسان کام چن لیا هے اور آپ---------- آپ کی مرضی ، مشکل میں پڑیں یا مشکل سے باهر رهیں۔
نصیحت کا عمل زندگی کی طرح بهت پرا نا هے ۔غالبا پهلے انسان کے پیدا هونے سے پهلے بھی نصیحت کا عمل موجودتھا ۔نصیحت ایک حکم کی طرح نافذ هوتی تھی ایسے کرو ، ایسے نه کرو ۔وهاں جاو وهاں نه جاو-اس کا سجده کرو اور اس کے علاوه کا سجده نه کرو ماں باپ کی اطاعت کرو شیطان کی اطاعت نه کرو ۔غرض یه که نصیحت سنو اور مانتے چلے جا و ۔ زمین کے سفر میںآسمان کی نصیحتیں سنو اور انهیںماننے کا حوصله پیدا کرو ۔
ماضی کے اوراق میں هم دیکھتے هیں که کبھی کبھی ایک آدمی ، هم میں سے هی ، همارے سامنے ایک بلندی پر کھڑا هوگیا اور ایک رعب دار آواز میںنصیحت کرنے لگ گیا ،کهشرک نه کرو ،زمین پر اکڑ کر نه چلو ، اور وغیره وغیر ه ۔
ان لوگوں کو کس نے اجازت دی که لوگوں کو خطاب کریں که اے انسانو غورسے سنو ،ایک وقت آنے والا هے جب تم سے تمهارے اعمال کے بارے میںپوچھا جائے گا ، جب چھپے هوئے راز ظاهر هونگے اور جب انسان کو اس کے اعما لکے مطابق ایک عاقبت ملے گی۔
بهرحال نصیحتیں چلتی رهتی هیں خطاب جاری رهتے هیں اور سماعتیں بے حس هو جاتی هیں ، نصیحت کرنے وا لے شور مچا تے رهتے هیں که اے محتر م اندھو آگے قدم نه بڑھانا ، آگے اندھا کنواں هے ، لیکن عقل کے اندھے سنی ان سنی کر کے دھڑا م سے گرتے رهتے هیں ، اور پھر گله هوتا هے که کاش مجھے کوئی لا ٹھی مار کے سمجھا تا که واقعی آگے کنواں هے ، یه لوگ سنتے هیں لیکن ان
کے دل پر اثر نهیں هو تا ، یه لوگ دیکھتے هیں لیکن انهیں نظر کچھ نهیں آتا ، یه لوگ فلسفی هیں لیکن بیچا رے سمجھ نهیں سکتے ، ان کے پاس دل هے لیکن حس نهیں سهے، یه لوگ مغرور هیں لیکن ان کی متاع حیات قلیل هے ، یه طاقت سے حکومت کرنا چاهتے هیں ان کے پاس خدمت کا شعور نهیں ، بس اس طرح یه کھیل جاری رهتا هے ۔ آوازیں آرهی هیں که غا فلوسنو غور سے ، گجر کی آواز سنائی دیتی هے ، کا ن دھرو، وقت کا ناقوس بج رها هے ، رحیل کا رواں کے معنی تلاش کرو ۔ بانگ درا کی تفسیر ڈھونڈو، بال جبریل کا مفهوم سمجھو ، لیکن نهیں سننے والوں کے کانوں میں گویا پگھلا هو اسیسه انڈیلا جا چکا هے ، خواهشات کا اودھم مچاهوا هے ۔ نصیحت کی آواز کیسے سنائی دے ۔
لوگ اب مطمئن هیں که اب کوئی سقراط موجود نهیں ،اچھا هو اکه سعدی رخصت هوگئے ، بھلا هوا اقبال کا که اب وه بھی نهیں ،کچھ لوگوں کے لئے یه امر باعث اطمینان هے که اب نئی نسل پرانے مذهب سے آزادی هورهی هے ۔خوش لوگ اس بات پر که الله نے نبی بھیجنے کا سلسله هی بند فرمادیا ۔
وه سمجھتے هیں که شاید ان کو نجات مل گئی ، عقیدوتوں اور عقیدوں سے آزادهوگئے نصیحتوں سے ڈرانے والوںسے ، آگاه کرنے والوں سے ، ان کے صرف حال هے نه کوئی فردا نه ماضی ، بس صرف یهی دور هے ، یهی زمانه هے ۔ آینده کوئی حساب وکتاب نهیں هوگا، الله اپنے گھر میں خوش ، هم اپنے گھرمیں لیکن ، لیکن ایسے نهیں هوسکتا ، پیدا کرنے والے نے زندگی اور موت پیدا کی یه دیکھنے کے لئے که کو ن نصیحت کرتا هے اور کون نصیحت پر عمل کرتا هے ، کون سعادت مند هے جودوسروں تجربات سے فائده حاصل کرتا هے کون هے خوش نصیب جو نصیحت کے چراغ کی روشنی میں زندگی کی تاریکیوں سے آزاد هوجاتا هے اور کون هے وه جو اس زندگی اور اس زندگی کے انعامات سے سرفراز هو تا هے ۔
نصیحت کا لفظ طلسماتی لفظ هے ، جو زندگی کے سفر میں کسی وقت بھی اپنا جادو جگا سکتا هے ، شرط صرف یه که نصیحت کرنے والا نصیحت کے عمل سے خود کو ئی فائده حاصل نه کرے ، ورنه سب کچھ بیکا ر هوجائے گا ۔ مخلص کی تعریف هی یه هے که آپ کے ساتھ ، آپ سے زیاده مهربان هو وه جو اپنے آپ کو بھو ل کر آپ کو یاد رکھے وه جو تم سے تمهاری بهبو د کے علاوه کسی اور معاوضے کا متمنی نه هونصیحت کرنے والا مخلص نه هو تو نصیحت بھی ایک پیشه هے اور پیشه ور کی نصیحت ، نصیحت نهیں کهلائی جاسکتی ۔ بهر حال کهنے کا مدعا یه تھا که نصیحت کا عمل قدیم هے ، آسان هے ، هم نے اسے اپنے لئے چن لیا اور اب یه بھی ضروری نهیں که هم هر وقت هر آدمی کو هر طرح کی نصیحت هی کرتے رهیں، بلکه نصیحت کا پهلا اصول یه هے که نصیحت کرنے والا نصیحت سننے والے سے کچھ نه کچھ تعلق ضرور پیدا کرے بے تعلق نصیحت یا بے تعلق تبلیغ ایسے هے جیسے زبان غیر میں تقریر کرنا ۔
سب سے موزوں نصیحت تو یهی هے که نصیحت سننے والے میں نصیحت سننے کا شوق هو ورنه ورنه وهی کها نی که ایک دفعه ایک بندر تھا ،بندر اور بیا پاس پاس رهتے تھے پڑوسی تھے بیا سارا سا ل خوبصورت گھونسله بناتا اور سردی میں اس میں آرام کرتا اور بندر تو بس بندر هی تھا ، ایک دفعه هو ایه که بندر سردی می ٹھٹھر رهاتھا اور بیا اپنے آشیا نے میں لطف اندوز هورها تھا ، بیا کو کیا سوجھی که وه بندر کو دیکھ کر نصیحت کرنے لگا ،،بولا، بھا ئی بندر میں نے تمهیں هزار بار کها تھا که موسم سرما آنے والا هے ۔ اپنے لئے آشیا نه بنا لو ، مگر تم نے ایک نه مانی ،،بندر یه سن کر ناراض هوگیا اس نے کها ٫٫اتنے سے پرندے اور اتنے بڑے بندر کے سامنے زبان کھولتے هو ئے شرم نهیں آتی ؟ تجھے نصیحت کا حق کس نے دیا ؟ لا میں تجھے گھونسله بناکے دکھاو ں،،بندر نے بندروں والا کام کردیا اور بیا کا گھونسله ٹوٹ گیا توڑ دیا گیا بندر نے اپنا آشیانه نه بنایا اور ناصح کا آشیانه توڑ دیا۔
بس یهی انجام کرتے هیں نصیحت پر ناراض هونے والے ناصح کا که کبھی صلیب پر چڑھا دیتے هیں ، کبھی اسے وادی طائف سے گزارتے دیتے هیں کبھی اس پر کربلا ئیں نافذ کردیتے هیں ، اور کبھی دار پرلیکن سلام ودرود هو نصیحت کرنے والوں پر جن کے حوصلے بلند اور عزائم پخته هوتے هیں جو گالیا ں سن کر دعائیں دیتے هیں اور جو غا فلوں سے غفلت کی چادر یں اتار دیتے هیں اور انهیں بے حسی کی نیند سے جگاتے رهتے هیں ۔هم بھی ان لوگوں کے ساتھ عقیدت کے طور پر نصیحت کرنے کا عمل اختیار کرنے کا اراده رکھتے هیں۔
اس سے پهلے که کوئی نصیحت کی جائے ۔۔یه کهدینا بھی ضرور ی هے که دنیا میں کوئی ایسی نصیحت نهیں جو پهلے کی نه گئی هو کتابیں لائبریریاں نصیحتوں سے بھری هوئی هیں تو کیا کتابیں پڑھ لینا هی کافی هے نهیں اس کے علاوه بھی کچھ هے بهت کچھ هے یه وقت کا عبرت کده هے یهاں آنکھ کھو ل چلنا چاهیئے ۔ اپنی من مانی نهیں کرنی چاهیئے ۔ پهلے من مانی کرنے والے کهاں گئے ؟ عشرت کدے عبرت کدے کیوں بن گئے محلات ، کھنڈرات هوگئے ، دنیا میں جھوٹ بولنے والے کیاکیا نشانیاں چھوڑ گئے ،،ویرانیاں هی نشانیاں هیں۔سب سے بڑی نصیحت تو یهی هے که نصیحت سننے کے لئے تیار رهنا چاهئے ، کا ن کھول کر رکھے جائیں ،آنکھیں انتظار سے عاری نه هوں ، دل احساس سے خالی نه هو، عقل کو عقل سلیم بننے میں کسی رکاوٹ سے دوچار نهیں هونے دینا چاهئے ، جب انسان نصیحت سننے پر آماده هوجائے تو اسے بهتی هوئی ندیوں میں کتابیں هی کتابیں نظر آئیں گی ، هرطرف نصیحت هی نصیحت
ندی راز هے گهراراز پهاڑ کا کا پیغام ، سمندرکے نام رواں دواں ،اپنی منزل مراد کی طرف نصیحت هے ان لوگوں کے لئے جو اولی الالباب هیں ، ندی هی پر موقوف نهیں، پها ڑ بھی ایک انسان کے لئے ایک نصیحت آموز داستان رکھتے هیں ، ایک عزم،ایک قوت،ایک داستان دلبری ، پهاڑوں میںنصیحتیں هیں ،بادلوں میں نصیحتیں هیں
زمین کے اندر نصیحت ، زمین سے باهر نصیحت ، درختوں میں زبانیں هیں ، گویائی هے ، نصیحت هے ، جلوه هے جلوگر بھی هے ۔
زمین کے اندر نصیحت کی ایک داستان دلپذیر میر تقی میر نے ایک رباعی میں پیش فرمائی هے که پرانے قبرستان میں ایک کا سئه سر پر پاو ں جا پڑا، بس ٹوٹ گیا،اور ساتھ هی یه آواز آئی :
لیکن اس سے بھی زیاده اثر انگیز بیان بابافرید کے ایک اشلوک میں هے ۔ جس کے پیچھے ایک کهانی هے جو کچھ یوں سی هے :
ایک دفعه بابافرید اپنے سیلانی دور میں ایک بستی میں سے گزر ے ۔ دیکھا که ایک خوبصورت عورت ایک غریب عورت کو ماررهی هے ، بابافرید نے وجه دریافت فرمائی ،اطلاع ملی که یه امیر عورت ایک عشرت گاه کی مالکه هے اور غریب اس کی ملازمه بلکه مشاط اس دن نوکرانی نے مالکن کو کا جل ڈالااو ر اس کے ساتھ کوئی ریت کا ذره بھی تھا جو اس کی خوبصورت
آنکھوں میں بڑا تکلیف ده لگا ، اس لئے اس نے خادمه کو مارا بابافرید اپنے سفر پر گامزن هوگئے ایک مدت بعد کے واپسی کا سفر شروع هوا او راسی بستی کے قبرستان میں قیام کے دوران بابافرید نے ایک عجیب منظر دیکھا ، ایک چڑیا نے ایک انسانی کھوپڑی میںاپنے بچے دیئے هوئے تھے۔ وه چڑیا آتی اور چونچ میں خوراک لاکر بچوں کو کھلاتی ، بچے کھوپڑی کی آنکھوں سے باهر منه نکالتے اور خوراک لیکر اندر چلے جاتے ، انسانی کھوپڑی کا یه مصرف باباجی کو عجیب سالگا۔انهوں نے یه دیکھنے کے لئے مراقبه کیا که یه کھوپڑی کس آدمی کی هے ،انهیں معلوم هوا که یه تو اسی خوبصورت عورت کی هے جو آنکھوں میں ریت کا ذره برداشت نه کرتی تھی آج اس کی آنکھوں میں چڑیا کے بچے بیٹھے هوئے هیں
جوآنکھیں جگ موهنے والی تھیں آج میں نے وه آنکھیں دیکھ لیں، کاجل کا ذره برداشت نه هوا آج پنچھی کے بچے اسی آنکھ میںبیٹھے هیں
بهرحال نصیحت هرطرف لکھی گئی هے ، هر سانس نصیحت ، هر جلوه نصیحت ، تنهائی نصیحت ، محفل نصیحت ، ذره ذره اور قطره قطره نصیحت ، قبول کر نے والا هو تو عطا کرنے والا دور نهیں ،ذوق سجده مل جائے تو آستانه مسجود پاس هی هے ، آنکھ منتظر هو تو جلوه بے تاب هو کر سامنے آئے گا ۔خبر دینے والا ایک بڑی خبر لیکر پھر رها هے ، آپ کے لئے، آپ کے فائدے کے لئے ،آپ کی بچت کے لئے ، مخبرکا انتظار کرو آپ میں سے هی آپ کے آس پاس ،جیساانسان ،کوئی انسان، نه جانے کب کهاں بولنا شروع کردے سماعت متوجه رکھو ، آپ کو اپنے اندر هی سے آواز آسکتی هے دوسروں کی خامیوں پر خوش هونے والو ، کوئی اپنی هی خوبی بیان کرو ، اسلام سے محبت کرنے کا دعوا کرنے والو ، مسلمانوں سے نفرت نه کرو ، آپ کی آنکھ کھٹکنے والے خار کسی اور نگاه کے منظو ر نظر بھی هوسکتے هیں ،نصیحتوں پر ناراض نه هونا چاهئے، بندر اور انسان کا فرق قائم رکھنا چاهئے ﴿کتاب حرف حرف حقیقت سے اقتباس﴾
شہر رمضان الذی انزل فیہ القران
حلول ماہ مبارک رمضان تمام مسلمانان جہان کو مبارک ہو
یہ مبارک مہینہ، خدا کا مہینہ آپ سب کو مبارک ہو
اس مہینہ میں تزکیہ نفس کریں اور طلب مغفرت
اس مہینہ میں صرف بھوک برداشت کرنا نہ سیکھیں بلکہ
اپنے نفس اور خواہشات پر بھی کنٹرول کرنا سیکیھں
التماس دعا
مدیریت وبلاگ