چشم انتظار یار

Install Times new Roman Font on ur Computer

چشم انتظار یار

Install Times new Roman Font on ur Computer

رویت ہلال کے بارے میں بعض سوالات کے جوابات ( استفتاآت مقام معظم

س 853۔ آ پ جانتے ہیں  کہ ابتداء ماہ اور آ خر ماہ میں چاند حسب ذیل حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے:

۱۔ غروب آ فتاب سے پہلے ( چاند) ہلال ڈوب جاتا ہے۔

۲۔ کبھی چاند اور سورج دونوں ایک ساتھ غروب ہوجاتے ہیں ۔

۳۔ کبھی چاند آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے۔

مہربانی کرکے ان چند امور کی وضاحت فرمائیں:

1 ۔ مذکورہ تین حالتوں میں سے وہ کون سی حالت ہے جس کو فقہی نقطہ نظر سے مہینے کی پہلی تاریخ مانا جائے گا۔

2۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ آ ج کے الیکٹرانک دور میں مذکورہ تمام شکلوں کو دنیا کے آ خری نقطے میں دقیق الیکٹرانک نظام کے حساب سے دیکھ لیا جاتا ہے ، تو کیا اس نظام کے تحت ممکن ہے کہ پہلی تاریخ کے پہلے سے طے کرلیا جائے یا آ نکھ سے ہلال کا دیکہنا ضروری ہے؟

ج۔ اول ماہ کا معیار اس چاند پر ہے جو غروب آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے اور جس کو غروب سے پہلے عام طریقہ سے دیکہا جاسکتا ہو۔

س854۔ اگر شوال کا چاند ملک کے کسی شہرمیں دکھائی نہیں  دیا لیکن ریڈیو اور ٹی وی نے اول ماہ کا اعلان کردیا تو کیا یہ اعلان کافی ہے یا تحقیق ضروری ہے؟

ج۔ اگر رویت ہلال کا یقین ہوجائے یا اعلان رویت ولی فقیہہ کی طرف سے ہو تو پھرتحقیق کی ضرورت نہیں  ہے۔

س855۔ اگر رمضان کی پہلی تاریخ یا شوال کی پہلی تاریخ کا تعین بادل یا دیگر اسباب کی وجہ سے ممکن نہ ہو اور رمضان و شعبان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں تو کیا ایسی صورت میں جبکہ ہم لوگ جاپان میں ہوں، ایران کے افق پر عمل کرسکتے ہیں یا جنتری پر اعتماد کرسکتے ہیں ؟

ج۔ اگر اول ماہ نہ چاند دیکھ کر ثابت ہو، چاہے ان قریبی شہروں کے افق میں سہی جن کا افق ایک ہو، نہ دو شاہد عادل کی گواہی سے اور نہ حکم حاکم سے ثابت ہو تو ایسی صورت میں احتیاط واجب ہے کہ اول ماہ کا یقین حاصل کیا جائے۔ اور چونکہ ایران، جاپان کے مغرب میں واقع ہے اس لئے جاپان میں رہنے والوں کے لئے ایران میں چاند کا ثابت ہوجانا کوئی اعتبار نہیں  رکہتا۔

س856۔ رویت ہلال کے لئے اتحاد افق کا معتبر ہونا شرط ہے یا نہیں ؟

ج۔ کسی شہر میں چاند کا دیکہا جانا اس کے ہم افق یا نزدیک کے افق والے شہروں کے لئے کافی ہے اسی طرح مشرق میں واقع شہروں کی رویت مغرب میں واقع شہروں کے لئے کافی ہے۔

س857۔ اتحاد افق سے کیا مراد ہے؟

ج۔ اس سے وہ شہرمراد ہیں  جو ایک طول البلد پر واقع ہوں اور اگر دو شہر   ایک طول البلد پر واقع ہوں تو ان کو متحد الافق کہا جاتا ہے ۔ یہاں طول البلد علم ہئیت کی اصطلاح کے اعتبار سے ہے۔

س858۔ اگر 29 تاریخ کو خراسان اور تہران میں عید ہو تو کیا بو شہر کے رہنے والوں کےلئے بھی افطار کرلینا جائز ہے جبکہ بو شہر اور تہر  ان کے افق میں فرق ہے؟

ج۔ اگر دونوں شہروں کے درمیان اختلاف افق اتنا ہو کہ اگر ایک شہر میں چاند دیکھا جائے

  تو دوسرے شہرمیں دکھائی نہ دے توایسی صورت میں مغربی شہروں کی رویت مشرقی

 شھروں  کے لئے کافی نہیں  ہے کیونکہ مشرقی شہروں میں سورج مغربی شہروں سے پہلے غروب ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اگر مشرقی شہروں میں چاند دکھائی دے تو رویت ثابت و محقق مانی جائے گی۔

س859۔ اگر ایک شہر کے علماء کے درمیان رویت ہلال کے ثابت ہونے میں اختلاف ہوگیا ہو یعنی بعض کے نزدیک ثابت ہو اور بعض کے نزدیک ثابت نہ ہو اور مکلف کی نظر میں دونوں گروہ کے علماء عادل اور قابل اعتماد ہوں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر اختلاف شہادتوں کی وجہ سے ہے یعنی بعض کے نزدیک چاند کا ہونا ثابت ہو اور بعض کے نزدیک چاند کا نہ ہونا ثابت ہو، ایسی صورت میں چونکہ دونوں شہادتیں ایک دوسرے سے متعارض ہیں لہذا قابل عمل نہیں ہوں گی۔ اس لئے مکلف پر واجب ہے کہ اصول کے مطابق عمل کرے۔ لیکن اگر اختلاف خود رویت ہلال میں ہو یعنی بعض کہیں  کہ چاند دیکہا ہے اور بعض کہیں  کہ چاند نہیں دیکہا ہے۔ تو اگر رویت کے مدعی دو عادل ہوں تو مکلف کے لئے ان کا قول دلیل اور حجت شرعی ہے اور اس پر واجب ہے کہ ان کی پیروی کرے اسی طرح اگر حاکم شرع نے ثبوت ہلال کا حکم دیا ہو تو اس کا حکم بھی تمام مکلفین کے لئے شرعی حجت ہے اور ان پر واجب ہے کہ اس کا اتباع کریں۔

س860۔ اگر ایک شخص نے چاند دیکہا اوراس کو علم ہو کہ اس شہر  کا حکم شرعی بعض  

وجوہ کی بنا پر رویت سے آ گاہ نہیں  ہوپائے گا تو کیا اس شخص پر لازم ہے کہ حاکم کو رویت کی خبر دے؟

ج۔ خبر دینا واجب نہیں  ہے بشرطیکہ نہ بتانے پر کوئی فساد نہ برپا ہو۔

س861۔ زیادہ تر فقہا افاضل کی توضیح المسائل میں ماہ شوال کی پہلی تاریخ کے اثبات کے لئے پانچ طریقے بتائے گئے ہیں  مگر حاکم شرع کے نزدیک ثابت ہونے کا اس میں ذکر نہیں  ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پہر اکثر مومنین مراجع عظام کے نزدیک ماہ شوال کا چاند ثابت ہونے پر کیونکر افطار کرتے ہیں ۔ اور اس شخص کی تکلیف کیا ہے جس کو اس طریقے سے رویت کے ثابت ہونے پر اطمینان نہ ہو؟

ج۔ جب تک حاکم ثبوت ہلال کا حکم نہ دے اتباع واجب نہیں  ہے پس تنہا اس کے نزدیک چاند کا ثابت ہونا دوسروں کے اتباع کے لئے کافی ہے

رمضان المبارک کے بارے میں پیغمبر اسلام(ص) کی ہدایات

رمضان المبارک رسول خدا ( صلی اللہ علیہ و آلہ )کے کلام میں :اَیھَا النّاسُ قَد اَقبَلَ اِلَیکُم شَھرُ اللہِ بِالبَرََکَۃِ وَ الرَّحمَۃِ وَ المَغفِرَۃِ شَھرٌ ھَوَعِندَاللہِ اَفضَلُ الشُّھُورِ وَ اَیامُہُ اَفضَلُ الاَیامِ وَ لَیالِیہِ اَفضَلُ اللَیالِی وَ ساعاتُہُ اَفضَلُ الساعاتِ ھُوَ شَھرٌ دُعیتُم فِیہ اِلی ضِیافَۃِ اللہِ وَ جَعَلتُم مِن اَھلِ کِرامَتِہ اَنفاسُکُم فیہِ تَسبیحٌ وَ نَومُکُم فِیہ عِبادَۃٌ وَ اَعمالُکُم فِیہ مَقبَولَۃٌ وَ دُعائُکُم فِیہ مُستَجابٌ فَاسئََلُوا رَبّکُم بَنِیاتٍ صادِقَۃٍ وَ قُلُوبٍ طاھِرٍَ اَن یوّفِقَکُم فِیہ لِصِیامِہِ وَ تِلاوَۃِ کِتابِءِ فَاِنَّ الشَّقی مَن حَرُمَ عَن غُفرانِ اللہِ فِی ھذا الشَھرِ الشَّریفِ. ترجمہ : رسول خدا (ص) نے فرمایا : اے لوگو ! رمضان خدا وند متعال کی برکت ، رحمت ، مغفرت اور بخشش کا مہینہ ہے جس نےتمہاری طرف رخ کیاہے یہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل ہےاس کے دن تمام دنوں سے بہتر اس کی راتیں تمام راتوں سے افضل اور اس کے لمحات تمام لمحات سے افضل و برتر ہیں خداوند متعال نے تمہیں اس مہینے میں اپنے ہاں مہمان بنایا ہے تم کو صاحبان کرامت میں سے قراردیا ہے سانس لینا اس مہینے میں تسبیح کا ثواب رکھتا ہے اور تمہاری نیند عبادت کے طور پر تمہارے اعمال میں لکھی جاتی ہےاور تمہارے اعمال و عبادت کو اس مہینے میں بارگاہ پروردگار میں قبولیت کا شرف ملتا ہے تمہاری دعائیں مقبول ہونگی پس صحیح نیت اور پاک دلوں سے اپنے پروردگار کی ہاں تضرع و زاری کرو تاکہ وہ تمہیں اس مہینے میں روزہ رکھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے اور بد بخت وہ شخص ہے کہ جس کے ہاتھ سے رمضان نکل جائے اور وہ کوئی ایساکام نہ کرے جس سے اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں ۔ وَ اذکُرُوا بِجُوعِکُم وَ عَطَشِکُم جُوعَ یومِ القِیامۃِ وَ عَطَشِہِ وَ تَصَدَّقُوا عَلی فُقَرائِکُم وَ مَساکینِکم وَ وَقِرّوُا کِبارَکُم وَ ارحَمُوا صِغارَکُم وَ صِلُوا اَرحامَکُم وَ احفَظُوا اَلسِنَتَکُم وَ غَضُّوا عَمّا لایحِلُّ النَّظَرُ اِلَیہِ اَبصارَکُم وَ عَمّا لا یحِلُّ الاِستِماعُ اِلَیہِ اَسماعَکُم وَ تَحَنَّنُوا عَلی ایتامِ النّاسِ یتَحَنَّنُ عَلی ایتمِکُم وَ تُوبُوا اِلَی اللہِ مِن ذُنُوبِکُم وَ ارَفَعُوا اِلَیہِ اَیدِیکُم بِالدُّعاءِ وَ فی اَوقاتِ صَلواتِکُم فَاِنَّھا اَفضَلُ السّاعاتِ ینظُرُ اللہُ عَزَّوَجَلَّ فیھا بِالرَّحمَۃِ اِلی عِبادِہِ یجیبُھُم اِذا ناجُوُہ وَ یلَبّیھِم اِذا نادُوہُ وَ یستَجیبُ لَھُم اِذا دَعَوہُ. رسول خدا (ص) نے فرمایا : جب اس مہینے میں روزہ رکھنے کی وجہ سے تشنگی اور بھوک کا احساس کرو تو اس وقت قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو اور اس مہینے میں فقراء اور مساکین کی مختلف انداز میں مدد کرو اپنے بزرگوں کا احترام کرو اور بچوں کے ساتھ رحم اور مہربانی سے پیش آؤ اپنے رشتہ داروں کی دلجوئی کرو جھوٹ ، افتراء ، تہمت اور غیبت سے اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اپنی آنکھوں کو ایسی چیزوں کے دیکھنے سے محفوظ رکھو جنکا دیکھنا حرام اور ممنوع ہے اپنے کانوں کو ایسی چیزوں کے سننے سے باز رکھو جن کا سننا شرعا حرام اور ممنوع ہے یتیموں پر رحم کھاؤ تاکہ تمہارے بعد تمہارے یتیموں پر بھی رحم کریں اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے اپنے ہاتھ توبہ و انابہ کے لئے بارگاہ حق میں بلند کرو نماز کے اوقات میں دعا کرو اور اپنے پروردگار سے اپنی حاجات پورا کرنے کے لئے دعا مانگو کیونکہ نماز کاوقت دعا کے لئے بہترین وقت ہے اس وقت خدا وند متعال اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتا ہے اور جب لوگ اس کی بارگاہ میں راز و نیاز اور مناجات کرتے ہیں تو وہ ان کی دعا کو قبول فرماتا ہے

رمضان کی عظمت اور فضیلت

 

 روزے کو عربی میں صوم کہتے ہیں ۔ صوم کے لفظی معنی رک جانے اور باز رہنے کے ہیں ۔قرآن میں کہیں کہیں روزے کے لئے صبر کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جس کے معنی ضبط نفس ، ثابت قدمی اور استقلال کے ہیں ۔ اصطلاح میں روزے کے معنی صبح سے غروب آفتاب تک خالص اللہ کے لئے کھانے پینے اور دیگر ممنوعات شرعیہ سے رکنے کے ہیں ۔ قرآن نے روزے کا مقصد حصول تقوی بیان کیا ہے ۔چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ ”اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقوی شعار بن جاﺅ ۔ “ تقوی دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں نیک باتوں کی طرف رغبت اور بری باتوں سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے ۔ انسانی خواہشات چونکہ انسان کو برائی کی طرف لے جاتی ہے اس لئے ان خواہشات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے روزے کا نسخہ تجویز کیا گیا ہے ۔ روزہ رکھنے سے حیوانی جذبات دب جاتے ہیں اور انسان کی خواہشات کمزور پڑ جاتی ہے ۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان نوجوانوں کو جو مالی مجبوریوں کے باعث نکاح کرنے سے معذور ہوں یہ مشورہ دیاہے کہ وہ روزے رکھیں ۔ آپ نے فرمایا کہ روزہ شہوت کو توڑنے اور کم کرنے کے لئے بہترین علاج ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابتدا میں مسلمانوں کو ہر مہینے صرف تین دن روزے رکھنے کی ہدایت کی تھی مگر یہ روزے فرض نہ تھے ۔ پھر ۲ہجری میں قرآن میں حکم نازل ہوا کہ رمضان کا پوار مہینہ روزے رکھو ۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ روزوں کے لئے رمضان ہی کے مہینے کی تخصیص کیوں ہے ۔ قرآن نے اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ ”رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے ۔ جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جوراہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے ۔ پس جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے ۔“ (البقرہ175 ( یعنی رمضان کو روزوں کے لئے اس لئے مختص کیا گیا ہے کہ اس مہینے میں قرآن نازل ہوا تھا لہذا رمضان کا پورا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے ۔ قرآن کی اہمیت محتاج بیان نہیں ۔ یہ خداکی آخری کتاب ہے جو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے اتاری گئی ۔ یہ حق و باطل کو نکھار کر الگ الگ کر دیتی ہے ۔ لہذا اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اس مہینے میں روزے رکھ کر ”نزول قرآن “ کی سالگرہ منایا کرو اور قرآن کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کیا کرو ۔ اس لئے اس مہینے میں تلاوت قرآن معمول سے زیادہ کی جاتی ہے اور ہر مسلمان کم از کم ایک مرتبہ قرآن ختم کرتا ہے ۔ نماز تراویح میں بھی قرآن پڑھا جاتا ہے اور ویسے بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے بعض روایا ت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان کے مہینے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام سے قرآن کا دور کیا کرتے ہیں ۔ روزہ دو باتوں پر منحصر ہے ۔ (1) صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک نہ کچھ کھایا جائے اور نہ پیا جائے ۔ (2)صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک جنسی اختلاط سے پرہیز کیا جائے ۔ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہو گا کہ انسانی خواہشات میں سے یہی دو خواہشات سب سے زیادہ پر زور اور سر کش ہیں ۔ یہ صرف خواہشات ہی نہیں بلکہ انسان کی فطری ضرورتیں بھی ہیں اور انہی پرنسل انسانی کی بقاءبھی منحصر ہے ۔ لہذا اسلام نے انہیں کنٹرول میں لانے کے لئے ایک ماہ کا تربیتی کورس مقرر کر دیا ہے ۔ اب اس پورے مہینے میں دن بھر ہم اپنی ان خواہشات کو محض خدا کی خوشنودی کے لئے قابو میں رکھتے ہیں ۔ اگرچہ ہم چھپ کر ان خواہشات کی تکمیل کرسکتے ہیں لیکن محض اس لئے ایسا نہیں کرتے کہ یہ ہمارے خدا کا حکم ہے اسی کو تقوی کہتے ہیں اور یہی چیز تمام عبادات کی جڑ اور اخلاق کی بنیاد ہے ۔ اخلاص اور بے ریائی روزے کی بنیادی خصوصیات ہیں ۔ اسی لئے ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ”روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دونگا ۔“ یعنی میرا بندہ محض میری خوشنودی کے لئے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے ۔ سب کچھ موجود ہوتا ہے لیکن نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے ۔ میاں بیوی اکٹھے ہوتے ہیں لیکن محض میری خاطر ایک دوسرے کے قریب نہیں جاتے ۔ جب میری خاطر وہ اپنی خواہشات کی قربانی دیتے ہیں تو اب میرا فرض ہے کہ میں انہیں بڑھ چڑھ کر بدلہ دونگا ۔ جب روزے کا بنیادی مقصد ہی تقوی اور خدا خوفی کا حصول ہے تو یہ بات از خود ثابت ہو گی کہ باقی جن باتوں سے بھی اللہ نے منع فرمایا ہے روزہ دار ان سے بھی مجتنب رہے لیکن تولنے لگے تو کم تولے اور ناپنے لگے تو کم ماپے ۔ یا اللہ کے جو دیگر احکام ہیں ۔ ان کی خلاف ورزی کرے ۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس کا روزہ روزہ نہیں بلکہ فاقہ کہلائے گا ۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ ” جس شخص نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو وہ جان لے کہ اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکار ہے یا پیاسا۔“ (بخاری ۔ کتاب الصوم)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے اجتناب کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ دار کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ باقی معاملات میں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرے ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس بات کی مزید وضاحت فرمائی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں۔ ”کتنے ہی روزے دار ہیں جن کے پلے روزے سے پیا س کے سوا اور کچھ نہیں پڑتا ۔“ (دارمی شریف( اس حدیث میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ روزے کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ تقوی و طہارت کا حصول ہے اگر روزہ دار تقوی کے حصول میں کامیاب ہو گیا تو اس کی بھوک پیاس اس کے کام آگئی ۔ لیکن اگر اس کی اخلاقی حالت میں کوئی فرق نہ پڑا تو اس کا بھوکا اور پیاسا رہنا بے کار گیا ۔ اگرچہ روزہ اصلاح نفس کے لئے ضروری ہے لیکن اس میں سختی یا فراط سے منع کیا گیا ہے ۔ بعض لوگ اعتدال کو ملحوظ نہیں رکھتے اور اپنے آپ کو بے جا سختی میں مبتلا کرنا نیکی سمجھتے ہیں ۔ یہ روش پسندیدہ نہیں ہے ۔ عرب میں صوم و صال کا طریقہ جاری تھا یعنی کئی کئی دن متصل روزے رکھتے تھے ۔ صحابہ نے بھی اس کا ارادہ کیا لیکن آپ نے سختی سے روک دیا ۔ قبیلہ باہلہ کے ایک صاحب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واپس گئے سال بھر کے بعد دوبارہ آئے تو پہچانے نہ جاتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا کہ تم تو نہایت خوش جمال تھے ۔ تمہاری صورت کیوں بگڑ گئی ؟ انہوں نے عرض کیا ”جب سے آپ سے رخصت ہوا ہوں متصل روزے رکھ رہا ہوں ۔ آپ نے فرمایا ۔ اپنی جان کو کیوں عذاب میں ڈال رکھا ہے ۔ رمضان کے علاوہ مہینے میں ایک دن کا روزہ کافی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں ۔ لیکن روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جو شخص میرے طریقہ پر نہیں چلتا ۔ وہ میرے گروہ سے خارج ہے ۔ سفر میں اللہ تعالی نے خود روزہ چھوڑنے کی اجازت دی ہے ۔ اگر سفر میں روزہ رکھنے سے تکلیف کا احتمال ہو تو روزہ چھوڑ دینا چاہئے ۔خود حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سفر میں کبھی روزہ رکھا ہے اور کبھی نہیں رکھا ۔ لیکن یہ بات مناسب نہیں کہ سفر میں روزہ رکھ کر آپ باقی لوگوں کے لئے تماشا بن جائیں ۔ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سفر میں تھے ۔ راستے میں ایک شخص کو دیکھا کہ بھیڑ لگی ہوئی ہے اور لوگوں نے اس پر سایہ تان رکھا ہے ۔ آپ نے پوچھا ۔ کیا بات ہے ؟لوگوں نے بتایا کہ اس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ سفر میں اس طرح روزہ رکھنا کچھ ثواب کی بات نہیں ہے ۔ اعتکاف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رمضان کا آخری عشرہ مسجد میں ہی رہے اور دن رات اللہ کے ذکر میں مشغول رہے ۔ اعتکاف کی حالت میں آدمی انسانی حاجات کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے مگر اس کے لئے لازم ہے ۔ کہ وہ اپنے آپ کو شہوانی لذتوں سے روکے رکھے ۔ اگر چاند انتیس تاریخ کو نظر آ جائے تو معتکف کا یہ عشرہ نو روز کا بھی ہو سکتا ہے ۔ کیوں کہ شوال کا چاند طلو ع ہوتے ہی اعتکاف ختم ہو جاتا ہے ۔ رمضان کا آخری عشرہ اس لئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں لیلتہ القدر آتی ہے ۔ یہ وہ برکت والی رات ہے جسے قرآن ایک ہزار مہینوں سے بڑھ کر قرار دیتا ہے ۔ قرآن نے لیلة القدر کی فضلیت ان الفاظ میں بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ ”ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تمہیں کیا پتا کہ شب قدر کیا ہے ۔ شب قدر ہزاروں مہینوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ اس رات کو فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر نازل ہوتے ہیں ۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک ۔“ لیلة القدر بڑی مبارک رات ہے ۔ اس رات غار حرا میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی ۔ قدر کے معنی بعض مفسرین نے تقدیر کے لئے ہیں ۔ یعنی یہ وہ رات ہے کہ جس میں اللہ تعالی تقدیر کے فیصلے نافذ کرنے کے لئے فرشتوں کے سپرد کر دیتا ہے ۔ اس کی تائید سورةدخان کی یہ آیت بھی کرتی ہے ۔ ”اس رات میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے ۔ “ دوسرے مفسرین کے نزدیک قدر سے مراد عظمت و شرف ہے ۔ یعنی وہ رات جو بڑی عظمت و شرف والی رات ہے ۔ سورة القدر میں بھی اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک طاق رات ہے ۔ اکثر لوگ ستائیسویں رمضان کو لیلتہ القدر سمجھتے ہیں ۔ اس رات کا تعین اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس لئے نہیں کیا گیا ہے تا کہ شب قدر کی فضیلت سے فیض اٹھانے کے شوق میں لوگ زیادہ سے زیادہ راتیں عبادت میں گزاریں اور کسی ایک رات پر اکتفانہ کریں ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ ”جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ کے اجر کی خاطر عبادت کے لئے کھڑا رہا ہے ۔ “ روزہ انسان کو بہت سے گناہوں سے محفوظ بھی رکھتا ہے اور بہت سے گناہوں کا کفارہ بھی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ ”روزہ ڈھال ہے ۔“ یعنی جس طرح ڈھال انسان کو دشمن کے حملوں سے محفوظ کر دیتی ہے اس طرح روزہ بہت سے گناہوں سے بچا لیتا ہے ۔ دوسری طرف اگر کسی سے گناہ ہو جائے تو روزہ کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا تین دن کے روز ے رکھے ۔ اسی طرح حج کے دوران کسی جانور کا شکار کر بیٹھے تو اس کا کفارہ قربانی کی صورت میں مقرر ہے لیکن اگر قربانی نہ دے سکے تو قربانی کے بدلے روزے رکھنے کا حکم ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ روزہ گناہ سے بچاتا ہی نہیں بلکہ بعض گناہوں کو معاف بھی کرا دیتا ہے

حضرت امام حسن علیہ السلام کی سوانح حیات پر مختصرنظر

بسم الله الرحمٰن الرحیم :

حضرت امام حسن علیہ السلام کی سوانح حیات پر مختصرنظر:

 والدین: حضرت امام حسن علیہ السلام کے والد ماجد حضرت امام علی علیہ السلام اور آپ کی والدہٴ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا ہیں۔ آپ اپنے والدین کی پہلی اولاد ہیں ۔

تاریخ وجائے پیدائش: حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت   ۳   ھ رمضان المبارک کی پندرہویں تاریخ کو مدینہ منورہ میںہوئی۔ مشہور تاریخ داں جلال الدین نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ آپ کی صورت پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے بہت ملتی تھی

پرورش: حضرت امام حسن علیہ السلام کی پرورش آپ کے والدین اور نانا رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زیر نظر ہوئی۔ اور ان تینوں عظیم شخصیتوں نے مل کر امام حسن علیہ السلام کے اندر انسانیت کے تمام اوصاف کو پیداکیا

حضرت امام حسن علیہ السلام کا دورہٴ امامت:

شیعہ مذہب کے عقیدہ کے مطابق امام پیدائش سے ہی امام ہوتاہے لیکن وہ اپنے سے پہلے والے امام کی وفات کے بعد ہی عہدہٴ امامت پر فائز ہوتا ہے لہٰذا حضرت امام حسن علیہ السلام بھی اپنے والد بزرگوار حضرت امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد عہدہٴ امامت پر فائز ہوئے

 جب آپ نے اس مقدس منصب پر فائز ہوئے تو چاروںطرف ناامنی پھیلی ہوئی تھی اور اس کی وجہ آپ کے والد کی اچانک شہادت تھی۔ لہٰذا معاویہ نے جو کہ شام نامی صوبہ کا گورنر تھا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بغاوت کربیٹھا ۔ امام حسن علیہ السلام کے ساتھیوں نے آپ کے ساتھ غداری کی ، انھوں نے مال ودولت ،عیش و آرام وعہدہ کے لالچ میں معاویہ سے سانٹھ گانٹھ کر لی ۔ ایسی صورت میں امام حسن علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے ایک تو یہ کہ دشمن کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے اپنی فوج کے ساتھ شہید ہو جائیں یا دوسرے یہ کہ اپنے وفادار دوستوں اور فوج کو قتل ہونے سے بچا لیں اوردشمن سے صلح کرلیں۔ اس صورت میں امام نے اپنے حالات کا صحیح جائزہ لیا اور سرداروں کی بے وفائی اور فوجی طاقت کی کمی کی وجہ سے معاویہ سے صلح کرنا ہی بہتر سمجھا۔

صلح کے شرائط:

(۱) معاویہ کو اس شرط پر حکومت منتقل کی جاتی ہے کہ وہ الله کی کتاب ،پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے نیک جانشینوں کی سیرت کے مطابق کام کرے گا۔

(۲) معاویہ کے بعد حکومت امام حسن علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگی اور امام حسن علیہ السلام کے اس دنیا میں موجود نہ ہونے کی حالت میںحکومت امام حسین علیہ السلام کو سونپی جائے گی ۔

(۳) نماز جمعہ کے خطبے میں امام علی علیہ السلام پر ہونے والا سب وشتم ختم کیا جائے اور آپ کو ہمیشہ اچھائی کے ساتھ یاد کیا جائے۔

(۴ ) کوفہ کے بیت المال میں جو مال موجود ہے اس پر معاوہ کاکوئی حق نہ ہوگا ،معاویہ ہر سال بیس لاکھ درہم امام حسن علیہ السلام کو بھیجے کا اور حکومت کی طرف سے ملنے والے مال میں بنی ہاشم کو بنی امیہ پر ترجیح دے گا، جنگ جمل وصفین میں حضرت علی علیہ السلام کی فوج میں حصہ لینے والے سپاہیوں کے بچوں کے درمیان دس لاکھ درہم تقسیم کئے جائیں اور یہ رقم ایران کے دارب گرد نامی صوبہ کی درآمد سے حاصل کئے جائیں۔

(5) الله کی زمین پررہنے والے تمام انسانوں کو امان ملنی چاہئے، چاہے وہ شام کے رہنے والے ہوں یا یمن کے، حجاز میں رہتے ہوںیا عراق میں، کالے ہوں یا گورے۔معاویہ کو چاہئے کہ وہ کسی بھی شخص کو اس کے ماضی کے برتاؤ کی وجہ سے کوئی سزا نہ دے، اہل عراق کے ساتھ دشمنوں والا رویہ اختیار نہ کرے، حضرت علی علیہ السلام کے تمام ساتھیوں کی مکمل طور پر حفاظت کی جائے، امام حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام وپیغمبر اسلام کے خانوادے سے متعلق کسی بھی شخص کی کھلے عام یا پوشیدہ طور پر برائی نہ کی جائے۔

 حضرت امام حسن علیہ السلام کے اس صلح نامہ سے معاویہ کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹ دیا اور لوگوں کو اس کے اصلی چہرے سے آشنا کرایا