X
تبلیغات
رایتل
چهارشنبه 12 مهر‌ماه سال 1385

کونسا عمل قابل قدر ہے (محمد حسن جوہری)

نوشته شده توسط سید محمد صادق شرف الدین در ساعت 20:23

بسم الله تعالی

کونسا علم قابل قدر هے؟

              علم وآگهی کو کسی اور مذھب نے اتنی اهمیت نهیں دی  جتنی اهمیت اسلام نے اس لیئے دی هے ۔جو امتیازات اس آسمانی دین کو حاصل هیں ان میں سے ایک بڑا امتیاز یه هے که مختلف ابعاد میں اس دین کے مبانی کوعلم ومعرفت اور تفکر وتعقل تشکل دیتے هیں ۔اسی بنیاد پر قرآن وحدیث میں هر دوسری چیز سے زیاده اس حقیقت کی ترجمانی کرنے والی اصطلاحات پر توجه دی گئی هے جیسے علم ،تعقل وتفقه وغیره۔

              قرآن کریم میں ،علم ، کا لفظ 105مرتبه آیاهے اور مختلف صورتوں ﴿جیسے یعلمون ،تعلمون وغیره میں  770 مرتبه سے زیاده استعمال هواهے اسی طرح اس آسمانی کتاب میںمختلف صورتوں میں 49مرتبه عقل17 ،مرتبه فکراور 20 مرتبه فقه کے مادے سے کام لیا گیاهے۔

              فرانس سے تعلق رکھنے والے مصنف ،ژول لابوم،نے قرآن کریم کے ترجمه پر مقدمه تحریر کرتے هوئے اسلام کے باره امتیاز کا ذکر کیا هے ان میں سے ایک امتیاز اسلام میں علم اور عقل کو دی جانے والی خصوصی اهمیت هے ا سلام سے پهلے مختلف ادیان کے پیرو کار یه سمجھا کرتے تھے که عقل اور دین ایک دوسرے سے ناموافق هیں اور یه باهم موافق هو بھی نهیں سکتے،کیونکه دین کا تعلق عقل اورمنطق سے ماوائ ایک دوسرے هی دنیاسے هے۔

              هم اسلام کی نگاه میں عقل اور علم کی قدر وقیمت کے بارے میں گفتگو کا اراده نهیں رکھتے،اس موضوع پرکرت سے اظهار خیال کیا جاتاهے دین اسلام میں علم ودانش کی ارفع اهمیت کے اظهار کے لئے درج ذیل آیت هی کو پیش کرنا کافی هے،

              ،انّ شر الدواب عند الله الصم البکم الذین لا یعقلون،،الله کے نذدیک بدترین اهل زمین وه بهرے اور گونگے هیں جو عقل سے کام نهیں لیتے هیں﴿سوره انفال٨،آیت٢٢﴾۔

ٰ              یه آیت صاف الفاظ میں اعلان کرتی هے که جاهل لوگ اور وه افرادجو عقل وتفکر کی نعمت سے محرام هیں خداکے نذدیک تمام اهل ارض سے بدتر هیں ۔

همارے خیال میں علم وآگهی کی اهمیت اور قدر وقیمت واضح کرنے کے لئے اس سے بهتر کوئی تعبیر هیں لائی جاسکتی۔جی هاں اسلام کی نظرمیںعلم وآگهی کی اهمیت هر قسم کی شک وشبه سے مبره هے۔البته جس بات کو زیاده اهمیت دینے کی ضرورت هے اور جس کا غورسے جائزه لیاجانا چاهئے وه یه هے که اسلام کس علم ودانش اور کونسے علماء ودانشوروں کی مدح وستائش کرتا هے، اور اس کی اس قدر تعریف وتمجید کا فلسفه کیا هے ؟

              وه کونسا علم ودانش هے جو جو پیغمبر (ص) کے فرمان کے مطابق ،تمام فضائل کی بنیاد هے ﴿راس الفضائل العلم﴾۔جس کے مالک کاسونااسے محروم کی  نمازوںسے بهترهے﴿نوم مع علم خیرمن جھل﴾بحارالانوار،ج،١،ص٥٨١۔جس کی معمولی مقدار کثیر عبادتون سے افضل هے﴿قلیل من العلم خیر من کثیرالعبادۃ﴾بحارالانوار،ج،١،ص٥٨١۔جس کا حصول هر مسلمان مرد وزن پرواجب هے ﴿طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ﴾بحارالانوارج،١،ص٧٧١۔اور امام جعفر صادق (ع) سے کے فرمان کے مطابق جس کا حاصل کرنا اتنا ضروری هے که چاهئے اس راه میں خون بهانا پڑے اور سمندر عبور کرنا پڑیں﴿ لو علم النا س ما فی العلم لطلبوه ولو سفک المھج وخوج الجج ﴾بحارالانوار،ج،١،ص177۔جس کا حصول بهر صورت ضروری هے ﴿طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم الا انّ الله یجب بغاۃ العلم﴾بحارالانوار،ج،١،ص185۔

              کونسا طالب علم اس عظیم درجه پر فائز هو گا جس کے متعلق پیغمبر اسلام (ص)  فرما تے هیں که زمین وآسمان کے درمیان جو کچھ هے وه اس کے لئے دعاگو هے﴿وانّه یستغفرلطالب علم فی السمائ ومن فی الارض حتی الحوت فی البحر﴾بحارالانوار،ج،١،ص٤٦١۔اور ایسا علم جس کے زریعے اسلام کو زنده کرے اگر اس کی حصول کے دوران اس کی موت واقع هو جائے تو جنت میں اس کے اور انبیائ الھی کے درمیان صرف ایک درجه کا فاصله هوگا ﴿من جائ ه الموت وھو یطلب العلم لیحی به الاسلام کان بینه وبین الانبیائ درجۃ واحدۃ فی الجنۃ﴾بحارالانوار،ج،١،ص184۔وه جاهل لوگوں کے درمیان ایسا هے جیسے مردوں کے درمیان ایک زنده﴿طالب العلم بین الجھال کاالحی بین الاموات﴾بحارالانوار،ج،١،ص١٨١۔اور حضرت علی  کے ارشاد کے مطابق راه خدا کے مجاهدوں کے مانند هے ﴿ الشاخص فی طلب العلم کا المجاھد فی سبیل الله﴾بحارالانوار،ج،١،ص179۔

              وه کونسا عالم هے جس کے بارے میں کها گیا هے که اس کے قلم کی سیاهی شهدائ کے خون سے افضل هے ﴿اذاکان یوم القیامۃ جمع الله عزوجل الناس فی صعید واحدووضعت الموازین فتوزن دمائ الشهدائ مع مداد العلمائ فیر جع مداد العلمائ علی دمائ الشهدا ئ﴾ بحارالانوار،ج،١،ص14۔جو وارث انبیائ هے ﴿ان ّ لعلمائ ورثۃ الانبیائ﴾بحارالانوار،ج،٢،ص92۔اور جو پیغمبر اسلام (ص)  کے ارشاد کے مطابق بعض انبیائ ماسبق کے مانند عظمت اور منزلت کا مالک هے﴿علمائ امتی کا نبیائ بنی اسرائل﴾ بحارالانوار،ج،٢،ص٢٢۔ حد یه هے که اس پر نگاه ڈالنا بھی عبادت میں شمار هوتاهے ﴿ النظر فی وجه العالم حباله عبادۃ ﴾بحارالانوار،ج،١،ص205۔

              اور امام جعفر صادق (ع) کے بقولجس کی موت اسلام کی دیوار میں ناقابل تلافی دڑاڑڈال دیتی هے﴿اذامات المئومن الفقیه ثلم فی الاسلام ثلمۃ لایسدھا شیئی﴾بحارالانوار،ج،١،ص220۔اور اما م محمد باقر(ع) کے فرمان کے مطابق ایسا عالم جو اپنی علم سے مستفید هو ستر هزار عابدوں سے برتر هے ﴿عال ینتفع علمه افضل من عبادۃ سبعین الف عابد﴾بحارالانوار،ج،١،ص18۔ یهی نهیں بلکهان کے علاوه بھی دسیوں فضیلتوں کا مالک هے،مختصر یه که یه جانناکه وه کونسا علم هے جسے اسلام اتنی اهمیت دیتاهے اسکے عالم اور اسکے چلب گار کی اس قدر عظمت اور منزلت کا قائل هے ایک انتهائی اور اهم مسئله هے۔

      علماء کی قدر وقیمت کا پیمانه

              اسلام علم ودانش کو بهت زیاده اهمیت دیتاهے لیکن محض علم کی زیادتی کی وجه سے کسی انسان کی عظمت کا قائل نهیں هوتا بلکه اس کسو ٹی پر انسانوں کو پرکھتاهے که علم وآگهی نے ان کے اندر کتنا حساس ذمداری پدا کیا هے ۔اسلام ایسے هی علم ودانش کو قدر کی نگاه سے دیکھتا هے جو انسانوں کو ذمدار بنایئے اور اسی عالم اور طالب علم کو محترم سمجھتاهے جس میں ذمداری اور فریضه کی ادائیگی کا احساس پایاجائے۔

              اسلام معاشرے میں جو علمائ ودانشوروں کی صرف اس بنیاد پر تعظیم وتکریم کا قائل نهیں که انهوں نے اپنی شخصی ذمداریوں پر عمل کیاهے اور اپنے ذاتی کردار کی تعمیر میں کامیاب هوئے هیں بلکه وه اس بات کو زیاده اهمیت دیتاهے که انهوں نے اپنے اجتماعی ذمداریوں پر کتنا عمل کیا هے اور معاشرے میں موجود خرابیوں کے خلاف کیا کردار اداکیا هے۔

              اسلام کی نظر میں عالم کی ذمداری فقط اتنی نهیں که وه محض اپنی اصلاح میں مصروف رهے،بلکه اسے معاشرے کی تعمیر وترقی میں بھی حصه دار هونا چاهئے اور معاشرے میں حق وعدالت کے قیام اور اسے هر قسم کی برائیوں کے خاتمے کے لئے حتی المقدور اپنی کوششوں کو بروئے کار لانا چاهئے، چنانچه اسلامی علوم کی تحصیل کو اسلامی معاشرے کی تعمیر کا مقدمه سمجھتا هے ۔ارشاد الهی هے :

              ٫٫ فلو نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذر وا قومھم اذا رجعو الیھم لعلھم یحذرون ،،

              ٬٬ تو هر گروه میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے کیوں نهیں نکلتی هے که دین کا علم حاصل کرے اور پھر اپنی قوم کی طرف پلت کر آئے تو اسے عذاب الهی سے ڈڑائے که شاید وه اسی طرح ڈڑ نے لگیں﴿ سورۃ توبه ٩ ۔آیت 122﴾ ۔حدیث کی کتابوں میں علمائ اور دانشوروں کو ایسے القاب سے مخاطب کیا گیا هے جو انکی عظیم الشان معاشرتی ذمه داریوں کے عکاس هیں مثلاً بعض احادیث میں پیغمبر (ص)  کے جانشین اور انبیائ کے وارث کے طور پر عالم کا تعارف کراگیاهے۔٫٫منیۃ المرید ،،میں شهید ثانی پیغمبرا سلام کا قول  نقل کرتے هیں که آپ نے فرمایا :خدا میرے جانیشوں پر رحمت فرمائے،حضرت سے پو چھا گیا :آپ یه کن لوگوں کے بارے میں فرما رهے هیں ؟

              آنحضرت (ص)  نے فرمایا :وه لوگ جو میرے قوانین کو ذنده کرتے هیں اور لو گوں کو ان کی تعلیم دیتے هیں ﴿منیۃ المرید ،ص92﴾  امام جعفر صادق  (ع) کا ارشاد بھی هے که علمائ انبیائ کے وارث هیں ،بحار الانوار ج٢،ص٢٢﴾۔حد تو یه هے که پیغمبر اسلام  علمائ اسلام کے  مقام ومنزلت کو گذشته امتوں کے بعض انبیائ کے برابر سمجھتے هیں  ،بحار الانوار ج٢،ص٢٢﴾۔ ظاهر بات هے که کوئی عالم اس وقت انبیا ئ کے ،،وارث ،اور خلیفه قرار پا سکتا هے جب وه انبیائ الهی کے مانند معاشرتی خرابیوں کو گمراهیوں اور نا انصافیوں کے خلاف حتی الامکان نبرد آزماهو وگرنه انبیائ الهی کی لائی هوئی تعلیامت کا صرف حصول هی کسی کو ان القاب کا حقدار نهیں بنا تا ۔

      محافظ وپاسبان

              امام جعفر صادق (ع) علامئ کو محافظ وپاسبان ، سے تشبیه دیتے هوئے فرماتے هیں : علمائ شیعتنا مرابطون با لثغر الذی یلی ابلیس و عفاریته  یمنعونھم عن الخروج علی ضعفا وشیعتنا ،،علما ئ شیعه وه محافظ هیں جو هما رے ضعیف پیرو کا روں کو  شیطا ن کی یلغار اور اسکی مکاریوں سے محفوظ رکھتے هیں ۔﴿بحا ر لانوار ج٢،ص٥﴾

              اسلام کے قلعے

              امام موسی  کاظم (ع) مسلمان عالم اور فقیه کو اسلام کا قلعه کهتے هیں ٫٫اذا مات المومن  وثلم فی الاسلام ثلمه لا یسدھا شئی لان المومنین الفقھا ئ حصون الاسلام ،،جب کوئی مومن ﴿فقیه ﴾ فوت هو تا هے تو اور اس کے مرنے سے اسلام اسلام میں ایسا رخنا پڑ تا هے جسے کوئی شئی پُر نهیں کرسکتی ۔﴿اصول کافی ج١،ص38﴾۔

              اس روایت میں مسلمان عالم کو اسلام کے مظبوط قلعه سے تشبیه دی گئی هے جو اسلامی معاشرے میں دشمنوں کے نفوز میں رکاوٹ هو تے هیں ۔ اور ایسے عالم کی موت اس مظبوط قلعے میں ایسا شگاف ڈال دیتی هے جسے پر نهیں کیا جاسکتا۔

      ستر عابدوں سے زیاده با فضیلت

              اسلام ایک عابد کے مقابله میںایک عالم کو زیا ده بافضیلت قرار دیتاهے،اسکی وجه یه هے که عابد صرف اپنی ذات کی صلاح میں مصروف رهتاهے جبکه عالم اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تعمیر وتهذیب کی ذمه داری کو بھی قبول کرتا هے ،اس حقیقت پر بعض رویات میں روشنی ڈالی گئی هے ۔

    ١۔  پیغمبراسلام (ص)  فرماتے هیں : فضل العالم علی العابد سبعین درجۃ ،بین کل درجتین حضر الفرس سبعین عاما ً وذالک ان الشیطٰن یدع بدعۃ للناس فیبصرھا العالم فینھا عنھا والعابد مقبل علی عبادته لا یتوجه لھا ولا یعرفھا ،،عالم عابد ستر درجه ﴿جس میں سے هر درجه گھو ڑے کے اپنی پوری رفتار کے ساتھ ستر برس تک دوڑ نے کی مسافت کے برابر هے ﴾برتری کا مالک هے اور اس برتری کی وجه یه هے جب کبھی بھی شیطن معاشرے میں کسی بھی بدعت کو پیدا کرتا هے تو عالم اسے دیکھ کر اسکے خلاف جهاد کرتا هے جبکه عابد اپنی عبادت میں مگن رهتاهے اور اسے بدعت سرے سے نظر هی نهیں آتی اور اسے اسکا علم هی نهیں هوتا ،﴿بحا ر لانوار ج٢،ص24﴾

٢۔  امام رضا (ع)فرماتے هیں :جب قیامت برپا هوگی تو عابد کے بارے میں کها جائیگا که بهت اچھا انسان تھا ،صرف اپنی نجات کے لئے کوششوں میں مصروف رهتاهے٫٫الا ان الفقیه من افاض علی الناس خیره وانقذھم من اعدائھم،،متوجه رهو کی فقیه وه شخص هے جو معاشرے کی خدمت کرتا هے ،جس کا وجود سماج کے لئے سود مند هوتاهے اور جو لوگون کو دشمنوں کی پنجے سے نجات دلاتا هے ایسے شخص سے روز قیامت کها جا ئے گا ،اے وه جو خاندان رسالت سے تعلق رکھنے والے بے سر پرستوں کے کفیل تھے اور جنهوں نے ان ضعیف دوستوں کی راهنمائی کی تھی میدان قیامت میں تھیڑو اوران لوگوں کی شفاعت کرو جو تمهارے علم ودانش سے بهره ور هوئے تھے ،﴿بحا ر لانوار ج٢،ص٥﴾

      نتیجه

              اس وضاحت کی ضرورت نهیں که ٫٫وارث انبیائ ٬٬ معاشے کی محافظ اور اسلام کے قلعے ،جیسے القابات اورعابد پر عالم کی برتری کے بارے میںآنے والی روایات اس حقیقت کی عکاس هیں که اسلام کے کاندهوں پر سنگین سماجی ذمه داریاں عائد هوتی هیں اور اسلام اسگروه کی جس قدر عظمت اور منزلت کا قائل هے وه اس صورت میں هے جب وه اپنے ان ذمه داریوں کو ادا کریں اور اس تعریف وتمجید میں وه علمائ قطعاشامل نهیں جو معاشرے میں اپنی ذمه داریاں ادا نهیںکرتے۔

اپنے نظریات اور انتقادات ہمیں میل کریں (smsshm@gmail.com - shams_light96@yahoo.com) تاکہ ہم اس وبلاگ کو آپ لوگوں کے مدد سے بہتر سے بہتر بنا سکیں۔ شکریہ